آج کے منتخب ۵ شعر

ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا

انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

جگن ناتھ آزاد
  • شیئر کیجیے

نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب

کون میرے لئے تڑپا ہوگا

انجم لدھیانوی

تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے

بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

سیف الدین سیف

خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے

ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے

کیف احمد صدیقی

کتنی گھٹائیں آئیں برس کر گزر گئیں

شعلہ ہمارے دل کا بجھایا نہ جا سکا

واصف دہلوی
آج کا لفظ

میسر

  • mayassar
  • मयस्सर

معنی

available

آج کیا لوٹتے لمحات میسر آئے

یاد تم اپنی عنایات سے بڑھ کر آئے

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

Who wrote Urdu's first grammer-oriented text "qawaid"?
Start Today’s Quiz
app bg1 app bg2

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

پروین

پروین شاکر (1952 .1994 ) اپنی مختصر سی عمر میں شہرت اور مقبولیت کی معراج کو پہنچیں۔ 1976 میں جب ان کا پہلا مجموعۂ کلام 'خوشبو' چھپ کر آیا، جس کا سرورق مشہور فنکار صادقین صاحب نے بنایا تھا، اس کو دیکھ کر فیض احمد فیض  نے مسکرا کر کہا تھا: ''میں نے تو عمر بھر میں اتنی نظمیں کہیں ہیں''۔ صادقین صاحب نے جواب دیا ''پروین شاکر زیادہ کہتی ہیں مگر اچھا کہتی ہیں"۔ 'خوشبو' کا پہلا ایڈیشن چھ مہینے میں ہی بک گیا۔ اس کے بعد ان کی کئ اور کتابیں شائع ہوئیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پروین شاکر، اردو شاعری کی دلنواز اور محبوب شخصیت، عام طور پر کسی محفل میں ہوتیں، گھر میں ہوتیں تو اپنے پاؤں سے جوتے اتار دیا کرتی تھیں۔ عام طور پر گاڑی بھی ننگے پاؤں چلایا کرتیں تھیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مومن

مومن خاں مومن (1800.1852)، وہی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے  شعر 
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا  
پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی۔
مومن غزلیں تو کمال کی کہتے ہی تھے، علم نجوم میں بھی انھیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ اکثر حساب لگا کر کوئی بات بتاتے تھے اور وہ عموماً پوری ہوتی تھی۔ تاریخ گوئی میں بھی مومن کو کمال حاصل تھا۔ نت نئے انداز کی تاریخیں کہتے تھے۔ اپنی موت سے چند مہینے پہلے مومن گھر کی چھت سے گر پڑے، ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے۔ انھوں نے اس حادثہ کی تاریخ  کہی اور پیشن گوئی کی کہ میں  پانچ مہینے بعد مرجاؤں گا۔ اور وہی ہوا، اس حادثے کی تاریخ آخر کار موت کی تاریخ بھی ثابت ہوئی جو ان کے مزار پر کندہ ہے۔
مومن نے کئی عشق کئے، ان کی غزلیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔  غزلوں کے علاوہ انھوں نے 12مثنویاں بھی لکھیں جن میں سے 6 کا موضوع خود ان ہی کا عشق ہے۔ سولہ سال کی عمر میں پہلی مثنوی "شکایت ستم" لکھی تھی جو ان کے ایک عشق کی ہی داستان تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فیض

عالمی شہرت یافتہ شاعر، فیض احمد فیض کی شادی 1941 میں، برطانوی شہری ایلس جارج سے سری نگر میں ہوئی تھی اور اِن کا نکاح شیخ محمد عبد اللہ نے پڑھایا تھا۔ ان دونوں نے مہاراجا ہری سنگھ کے"پری محل" میں ہنی مون منایا تھا۔ ایلس کا نام کلثوم رکھا گیا تھا، لیکن وہ ایلس فیض ہی کہلاتی تھیں۔ نکاح کے ساتھ ایک معاہدہ بھی ہوا تھا جس میں لکھا گیا تھا:   
"ایلس کو خلع لینے کا حق تھا اور ایلس کے زندہ رہتے ہوئے فیض کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ایلس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری فیض کی تھی۔ جبکہ ایلس کی کمائی پر صرف ایلس کا حق تھا۔" 
دونوں کی ازدواجی زندگی بہت کامیاب رہی ۔ ایلس خود بھی سماجی کارکن تھیں، انھوں نے نو عمری میں ہی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ راول پنڈی سازش کیس کے الزام میں 1951 سے 1955 تک  فیض جیل میں رہے۔ اس مشکل دور میں ایلس نے اپنی دونوں بچیوں کی دیکھ بھال اور مالی اخراجات کی ذمہ داری نبھائ۔ اس دوران فیض اور ایلس کے درمیان انگریزی میں جو خط و کتابت ہوئی وہ کتاب کی شکل میں، اردو میں "صلیبیں مرے دریچے میں" کے عنوان سے اور بعد میں انگلش میں  "Dear heart " نام سے شائع ہوئی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

اکبر

اکبر الہ بادی مشرقی اطوار اور تہذہب کے بہت بڑے حامی تھے۔ انھوں نے پوری شاعری میں انگریزی کلچر پر سخت طنز و تشنیع سے کام لیا۔ مگر خود اپنے صاحبزادے کو تعلیم کے لئے لندن بھیج دیا، جن کا نام عشرت حسین تھا۔ 
عشرت حسین کو روانہ کرتے وقت کافی عہد و پیمان بھی لئے کہ اپنی مشرقی روایت کو ہرگز نہ بھولنا۔ ایک بار عشرت کا خط آنے میں کافی دیر ہو گئی تو اکبرالہ بادی نے اپنا مشہور قطعہ لکھ بھیجا، جس کے دو شعر ملاحظہ ہوں 

عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے 
کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہی 
کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے

کیا آپ کو معلوم ہے؟

غبار

" غبارِ خاطر"  مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ہے جو ایک ادبی شاہکار ہے۔ مولانا آزاد مجاہد آزادی اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِتعلیم تھے۔ غبار خاطر ان چوبیس خطوط پر مشتمل  ہے جو انھوں نے 1942_ 1945 کے دوران قلعۂ احمد نگر، میں اسیری کے زمانے میں لکھے تھے ۔ مولانا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ کی صدرارت کے لئے بمبئ گئے تھے اور وہیں گرفتار کر لئے گئے تھے۔
 یہ سب خط نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ کے نام لکھے گئے تھے۔ لیکن یہ خطوط جو قلعۂ احمد نگر کے واقعات و مشاہدات اور مختلف موضوعات، افکار و خیالات اور فلسفے پر مبنی ہیں، قید کی سخت پابندیوں کی وجہ سے پوسٹ نہیں جاسکتے تھے ۔ اور یہ بات مولانا کو پتا بھی تھی کہ یہ خط مکتوب الیہ کو بھیجے نہیں جاسکتے۔
یہ خطوط نجی نوعیت کے تھے اور اس خیال سے لکھے بھی نہیں گئے تھے کہ شائع کئے جائیں گے ۔ لیکن قید سے رہائ کے بعد اپنے سکریٹری مولانا اجمل خاں کے اصرار پر مولانا نے انھیں کتاب کی شکل میں شائع کیا۔
یہ خطوط ان کی ابتدائی زندگی کی تفصیل کے ساتھ ساتھ علمی اور ادبی معلومات کا خزانہ بھی ہیں اور مولانا آزاد کے منفرد طرز نگارش کا نقطۂ عروج سمجھے جاتے ہیں۔

آج کی پیش کش

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیں

فرش شبنم سے اٹھیں اور گل تر ہو جائیں

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube
video

ساحر لدھیانوی

Tum Apna Ranj-o-Gham || Sahir Ludhianvi Shayari

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں