240
Favorite

باعتبار

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

لوٹ گئے سب سوچ کے گھر میں کوئی نہیں ہے

اور یہ ہم کہ اندھیرا کر کے بیٹھ گئے ہیں

دن گزرتے ہیں گزرتے ہی چلے جاتے ہیں

ایک لمحہ جو کسی طرح گزرتا ہی نہیں

یہ قید ہے تو رہائی بھی اب ضروری ہے

کسی بھی سمت کوئی راستہ ملے تو سہی

لوگوں نے بہت چاہا اپنا سا بنا ڈالیں

پر ہم نے کہ اپنے کو انسان بہت رکھا

اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے

سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں

دور بستی پہ ہے دھواں کب سے

کیا جلا ہے جسے بجھاتے نہیں

پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

کوئی نشہ ہے تھکن کا کہ اترتا ہی نہیں

ایک مشعل تھی بجھا دی اس نے

پھر اندھیروں کو ہوا دی اس نے

دم بہ دم مجھ پہ چلا کر تلوار

ایک پتھر کو جلا دی اس نے

زوال جسم کو دیکھو تو کچھ احساس ہو اس کا

بکھرتا ذرہ ذرہ کوئی صحرا کیسا لگتا ہے

برستے تھے بادل دھواں پھیلتا تھا عجب چار جانب

فضا کھل اٹھی تو سراپا تمہارا بہت یاد آیا