Anwar Masood's Photo'

انور مسعود

1935 | اسلام آباد, پاکستان

برصغیر میں طنز و مزاح کے ممتاز شاعر

برصغیر میں طنز و مزاح کے ممتاز شاعر

دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا

دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن

آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

اردو سے ہو کیوں بیزار انگلش سے کیوں اتنا پیار

چھوڑو بھی یہ رٹا یار ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار

صرف محنت کیا ہے انورؔ کامیابی کے لئے

کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہئے

آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں

تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے

انورؔ مری نظر کو یہ کس کی نظر لگی

گوبھی کا پھول مجھ کو لگے ہے گلاب کا

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا

کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی دے گی

ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز

شکر ہے انورؔ مری سوچیں علاقائی نہیں

جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے

رونے کو چھپانا ہوتا ہے

عجیب لطف تھا نادانیوں کے عالم میں

سمجھ میں آئیں تو باتوں کا وہ مزہ بھی گیا

سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا

اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی

ڈوبے ہوئے تاروں پہ میں کیا اشک بہاتا

چڑھتے ہوئے سورج سے مری آنکھ لڑی تھی

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی

جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی

وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ

نزدیک کی عینک سے اسے کیسے میں ڈھونڈوں

جو دور کی عینک ہے کہیں دور پڑی ہے

میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انورؔ

کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں

اے دل ناداں کسی کا روٹھنا مت یاد کر

آن ٹپکے گا کوئی آنسو بھی اس جھگڑے کے بیچ

نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانئے

آپ کے بچے کو افلاطون ہونا چاہئے

دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے

فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہئے

ساتھ اس کے کوئی منظر کوئی پس منظر نہ ہو

اس طرح میں چاہتا ہوں اس کو تنہا دیکھنا

تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں

ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا

جدا ہوگی کسک دل سے نہ اس کی

جدا ہوتے ہوئے اچھا لگا تھا

پلکوں کے ستارے بھی اڑا لے گئی انورؔ

وہ درد کی آندھی کی سر شام چلی تھی

ادھر سے لیا کچھ ادھر سے لیا

یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ

ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا

انورؔ اس نے نہ میں نے چھوڑا ہے

اپنے اپنے خیال میں رہنا

آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی

سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا

مسجد کا یہ مائک جو اٹھا لائے ہو اے انورؔ

کیا جانئے کس وقت اذاں دینے لگے گا

ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے

ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے

بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا

جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ

وہاں زیر بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں

غم عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا