Anwar Masood's Photo'

برصغیر میں طنز و مزاح کے ممتاز شاعر

برصغیر میں طنز و مزاح کے ممتاز شاعر

1.59K
Favorite

باعتبار

دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا

دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن

آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

اردو سے ہو کیوں بیزار انگلش سے کیوں اتنا پیار

چھوڑو بھی یہ رٹا یار ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار

صرف محنت کیا ہے انورؔ کامیابی کے لئے

کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہئے

آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں

تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے

انورؔ مری نظر کو یہ کس کی نظر لگی

گوبھی کا پھول مجھ کو لگے ہے گلاب کا

ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز

شکر ہے انورؔ مری سوچیں علاقائی نہیں

جو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہے

رونے کو چھپانا ہوتا ہے

میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی

وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ

عجیب لطف تھا نادانیوں کے عالم میں

سمجھ میں آئیں تو باتوں کا وہ مزہ بھی گیا

سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا

اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے

ڈوبے ہوئے تاروں پہ میں کیا اشک بہاتا

چڑھتے ہوئے سورج سے مری آنکھ لڑی تھی

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی

جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ چراغاں ہوگا

کتنے آئینوں میں وہ شکل دکھائی دے گی

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

اب نہ دیوار نہ زنجیر دکھائی دے گی

تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں

ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا

نزدیک کی عینک سے اسے کیسے میں ڈھونڈوں

جو دور کی عینک ہے کہیں دور پڑی ہے

دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے

فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہئے

نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانئے

آپ کے بچے کو افلاطون ہونا چاہئے

میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انورؔ

کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں

اے دل ناداں کسی کا روٹھنا مت یاد کر

آن ٹپکے گا کوئی آنسو بھی اس جھگڑے کے بیچ

ساتھ اس کے کوئی منظر کوئی پس منظر نہ ہو

اس طرح میں چاہتا ہوں اس کو تنہا دیکھنا

جدا ہوگی کسک دل سے نہ اس کی

جدا ہوتے ہوئے اچھا لگا تھا

ادھر سے لیا کچھ ادھر سے لیا

یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ

ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا

انورؔ اس نے نہ میں نے چھوڑا ہے

اپنے اپنے خیال میں رہنا

مسجد کا یہ مائک جو اٹھا لائے ہو اے انورؔ

کیا جانئے کس وقت اذاں دینے لگے گا

پلکوں کے ستارے بھی اڑا لے گئی انورؔ

وہ درد کی آندھی کی سر شام چلی تھی

ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے

ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے

آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی

سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا

بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا

جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ

وہاں زیر بحث آتے خط و خال و خوئے خوباں

غم عشق پر جو انورؔ کوئی سیمینار ہوتا