Jaan Nisar Akhtar's Photo'

جاں نثاراختر

1914 - 1976 | ممبئی, ہندوستان

اہم ترقی پسند شاعر، اور فلم نغمہ نگار ، فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے والد

اہم ترقی پسند شاعر، اور فلم نغمہ نگار ، فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے والد

18.1K
Favorite

باعتبار

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں

دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو

نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے

آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے

چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم

دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں

گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں

اتنے مایوس تو حالات نہیں

لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں

زلفیں سینہ ناف کمر

ایک ندی میں کتنے بھنور

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر

یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

عشق میں کیا نقصان نفع ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہو

ہم نے ساری عمر ہی یارو دل کا کاروبار کیا

مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہے

پر اس میں کچھ کرشمہ عکس بدن بھی ہے

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں

وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے

آنکھوں میں جو بھر لوگے تو کانٹوں سے چبھیں گے

یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا

چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

کچل کے پھینک دو آنکھوں میں خواب جتنے ہیں

اسی سبب سے ہیں ہم پر عذاب جتنے ہیں

فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو

یہ نہ سوچو کی ابھی عمر پڑی ہے یارو

شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں

نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہم

اتنے مجبور رہے ہیں کبھی حالات سے ہم

تجھے بانہوں میں بھر لینے کی خواہش یوں ابھرتی ہے

کہ میں اپنی نظر میں آپ رسوا ہو سا جاتا ہوں

معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو

وہ ایک لمحہ کہ میں تجھ سے تنگ آیا تھا

ایک بھی خواب نہ ہو جن میں وہ آنکھیں کیا ہیں

اک نہ اک خواب تو آنکھوں میں بساؤ یارو

قوت تعمیر تھی کیسی خس و خاشاک میں

آندھیاں چلتی رہیں اور آشیاں بنتا گیا

انقلابوں کی گھڑی ہے

ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے

گزر گیا ہے کوئی لمحۂ شرر کی طرح

ابھی تو میں اسے پہچان بھی نہ پایا تھا