Jaun Eliya's Photo'

جون ایلیا

1931 - 2002 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

پاکستان کے اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے غیر روایتی طور طریقوں کے لیے مشہور

اصلی نام : جون ایلیا

پیدائش : 14 Dec 1931, امروہہ, ہندوستان

وفات : 08 Nov 2002

Relatives : عرفان ستار (شاگرد)

LCCN :n93022397

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

نام سید جون اصغر اور تخلص جون تھا۔۱۴؍دسمبر ۱۹۳۱ء کو ایک علمی وادبی خاندان بھارت کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ رئیس امروہوی اور سید محمد تقی ا ن کے بڑے بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شفیق حسن ایلیا کی سرپرستی میں حاصل کی۔ادیب کامل(اردو)، کامل(فارسی) ، فاضل(عربی) کے امتحانات پاس کیے۔اردو ، فارسی اور عربی زبانوں پر جون ایلیا کو یکساں عبور حاصل تھا۔ ۱۹۵۷ء میں بھارت سے ہجرت کرنے کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۸ء تک اسماعیلیہ ایسوسی ایشن پاکستان کے شعبہ تالیف کے نگراں رہے۔ ۱۹۶۸ء میں اردو ڈکشنری بورڈ سے وابستہ ہوئے۔ ۱۹۷۰ء میں انھوں نے زاہدہ حنا سے شادی کی۔ دونوں مل کر ایک عرصہ تک ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ نکالتے رہے۔ بعد میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔۸؍نومبر ۲۰۰۲ء کو کراچی میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ تاریخ ، فلسفہ اور مذہب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ شاید‘(شعری مجموعہ)، ان کی زندگی میں چھپ گیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے تین مجموعے’یعنی‘، ’گمان‘، اور ’لیکن‘ شائع ہوئے ہیں۔ وفات سے قبل زاہدہ حنا کے نام لکھے ہوئے خطوط کا مجموعہ ’’تمہارے نام ‘‘ کمپوز ہوا رکھا تھا۔ انھوں نے ’جوہر صقلی‘، ’کتاب الطواسین‘(ازمنصورحلاج) کے ترجمے کیے ہیں، مگر ان کے چھپنے کی نوبت نہیں آئی۔ پاکستان گورنمنٹ نے انھیں حسن کارکردگی کے تمغے سے نوازا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:260