noImage

لالہ مادھو رام جوہر

1810 - 1890

کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر

کئی ضرب المثل شعروں کے خالق، مرزا غالب کے ہم عصر

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہے

ہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہے

لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے

ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو

نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر

اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا

کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتی

یہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہے

آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے

وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے

دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہے

اک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہے

دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں

بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں

کعبے میں بھی وہی ہے شوالے میں بھی وہی

دونوں مکان اس کے ہیں چاہے جدھر رہے

اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ

بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا

اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بو کہاں

وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا

کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے

یوں تو جاتے بھی مگر اب نہیں جانے والے

چپکا کھڑا ہوا ہوں کدھر جاؤں کیا کروں

کچھ سوجھتا نہیں ہے محبت کی راہ میں

آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی

لوگ دیکھیں گے تماشا جو محبت ہوگی

کس طرف آئے کدھر بھول پڑے خیر تو ہے

آج کیا تھا جو تمہیں یاد ہماری آئی

تشریف لاؤ کوچۂ رنداں میں واعظو

سیدھی سی راہ تم کو بتا دیں نجات کی

آہیں بھی کیں دعائیں بھی مانگیں ترے لیے

میں کیا کروں جو یار کسی میں اثر نہ ہو

خط لکھا یار نے رقیبوں کو

زندگی نے دیا جواب مجھے