Rahi Fidai's Photo'

راہی فدائی

1949 | بنگلور, ہندوستان

26
Favorite

باعتبار

ہر ایک شاخ تھی لرزاں فضا میں چیخ و پکار

ہوا کے ہاتھ میں اک آب دار خنجر تھا

لذت کا زہر وقت سحر چھوڑ کر کوئی

شب کے تمام رشتے فراموش کر گیا

یہ کیسا گل کھلایا ہے شجر نے

ثمر بننے کو غنچہ منتظر ہے

برائے نام ہی سہی بہ احتیاط کیجئے

درون کذب و افترا صداقتیں خلط ملط

آپ نے اچھا کیا تطہیر خواہش ہی نہ کی

ورنہ زمزم چشمۂ ناپاک ہوتا غالباً

سبزہ زاروں کی شرافت سے نہ کھیلو قطعاً

تم ہوا ہو تو خلاؤں سے لپٹ کر دیکھو

کسی کو سایا کسی کو گل و ثمر دے گا

ہرا بھرا ہے درخت رواج رہنے دو

حادثوں کے خوف سے احساس کی حد میں نہ تھا

ورنہ نفس مطمئن سفاک ہوتا غالباً

ہوس گرفتہ ہواؤ نگاہیں نیچی رکھو

شجر کھڑے ہیں سڑک کے قرین بے پردہ

شرافتوں کے رنگ میں شرارتیں خلط ملط

سر مذاق ہو گئیں حماقتیں خلط ملط