311
Favorite

باعتبار

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں

ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے

میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوں

میرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں

دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے

میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں

اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے

بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے

سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے

میں سر بہ سجدہ سکوں میں نہیں سفر میں ہوں

جبیں پہ داغ نہیں آبلہ بنا ہوا ہے

پھلوں کے ساتھ کہیں گھونسلے نہ گر جائیں

خیال رکھتا ہوں پتھر اچھالتا ہوا میں

اب مجھے بولنا نہیں پڑتا

اب میں ہر شخص کی پکار میں ہوں

لاشوں میں ایک لاش مری بھی نہ ہو کہیں

تکتا ہوں ایک ایک کو چادر اٹھا کے میں

ابھی تو پہلے پروں کا بھی قرض ہے مجھ پر

جھجک رہا ہوں نئے پر نکالتا ہوا میں