Sheri Bhopali's Photo'

شعری بھوپالی

1914 - 1991 | بھوپال, ہندوستان

محبت معنی و الفاظ میں لائی نہیں جاتی

یہ وہ نازک حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی

برابر خفا ہوں برابر منائیں

نہ تم باز آؤ نہ ہم باز آئیں

سننے میں آ رہے ہیں مسرت کے واقعات

جمہوریت کا حسن نمایاں ہے آج کل

قیامت ہے یہ کہہ کر اس نے لوٹایا ہے قاصد کو

کہ ان کا تو ہر اک خط آخری پیغام ہوتا ہے

یہ بازی محبت کی بازی ہے ناداں

اسے جیتنا ہے تو ہارے چلا جا

تمنا ہے یہی دل کی وہیں چلئے وہیں چلئے

وہ محفل آہ جس محفل میں دنیا لٹ گئی اپنی

ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے

بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے

قطع ہوتی جا رہی ہیں زندگی کی منزلیں

ہر نفس اپنی جگہ چلتی ہوئی تلوار ہے