ارہر کا کھیت

رشید احمد صدیقی

ارہر کا کھیت

رشید احمد صدیقی

MORE BY رشید احمد صدیقی

    دیہات میں ارہر کے کھیت کو وہی اہمیت حاصل ہے جو ہائیڈ پارک کو لندن میں ہے۔ دیہات اور دیہاتیوں کے سارے منصبی فرائض۔ فطری حوائج اور دوسرے حوادث یہیں پیش آتے ہیں۔ ہائیڈ پارک کی خوش فعلیاں آرٹ یا اس کی عریانیوں پر ختم ہو جاتی ہیں، ارہر کے کھیت کی خوش فعلیاں اکثر واٹر لو پر تمام ہوتی ہیں۔ یورپ کی عورتوں کو حقوق طلبی کا خیال بہت بعد میں پیدا ہوا لیکن ارہر کھیت میں کتنی گاؤں والیاں مسز پنکھرسٹ سے پہلے یہ مہم سر کر چکی ہیں۔ یہ دیہاتوں کی اسمبلی ہے جہاں عورتوں اور بچوں کو گاؤں کی انتظامی حکومت میں اتنا ہی دخل ہوتا ہے جتنا ہندوستانیوں کو اسمبلی یا کونسل میں۔ دونوں بولتے ہیں، ضد کرتے ہیں، جھگڑتے ہیں، روتے بسورتے ہیں اور اپنے اپنے گھر کا راستہ لیتے ہیں۔ دیہاتی عورتیں اور بچے کچھ اور مفید کام کر جاتے ہیں جن سے ان کو اور کھیت دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے ارکان حکومت وہ کرتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسرے نقصان۔

    شام کا دھند لکا اور گاؤں کا دھواں پھیلنے لگتا ہے۔ کتے بھونکنے لگتے ہیں۔ کسان اور ان کے تھکے ہوئے مویشی ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے ہوئے دیہات کو واپس ہوتے ہیں۔ دونوں کے ذہن میں ایک ہی بات ہے، یعنی گھر پہنچ کر کھانا ملے گا۔ سونے کو ملے گا اور عافیت ملے گی۔ مویشی اور مالک دونوں کا خاندان ایک ہی ہوتا ہے۔ کسان کی بیوی اس کے بچے بچیاں اور اس کا بوسیدہ جھونپڑا کسان کے لیے اتنے ہی عزیز اور کارآمد ہوتے ہیں جتنے خود مویشی کے لیے کسان اور مویشی دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اس لیے زندگی کی تکالیف کو خاطر میں نہیں لاتے۔ کسان کتنا ہی فلاکت زدہ کیوں نہ ہو روشن خیال میاں بیویوں سے زیادہ جری اور پر امید رہتا ہے۔

    گاؤں کے قریب کنویں کے سامنے سے ایک راستہ کھیت کی سمت گیا ہے، ایک طرف گڑھا ہے جس میں کھاد جمع ہے، دوسری طرف ببول کا پرانا کھوکھلا درخت ہے جیسے کوئی کہن سال و تمغہ یافتہ فوجی جس پر دو ایک شب بیدار بزرگ اس طور سے بیٹھے ہوئے گردو پیش کا جائزہ لیتے ہوتے ہیں جیسے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر یورپ کے سورما شاخ زریں پر بیٹھے ہوئے گرد و پیش اور نزدیک و دور قبضہ جمانے کی فکر میں ہوں۔ عورتوں کی کچھ تعداد جمع ہوئی، تھوڑی دیر تک مزید کمک کا انتظار کیا گیا۔ ان میں جو جوان تھیں کنویں کی جگت پرتھیں پاؤں لٹکاتے ہوئے گنگناتی ہنستی بوڑھیوں کو برہمی و بیزاری کی دعوت دیتی ہوئی ۔ کچھ بوڑھیاں تھیں جو جگت کے نیچے بیٹھی کراہ رہی تھیں۔ کبھی گالیاں دیتیں کبھی کابنسنے لگتیں۔ ایک ٹولی اور آ پہنچی۔ اور سب ایک دوسرے کے پیچھے چلنے لگیں۔ جسم کو تولتے ہوئے نوجوان لڑکھڑاتیں تو ایک ہلکی سی چیخ اور بلند قہقہہ کے ساتھ سنبھل جاتیں۔ بوڑھیوں کا قدم ڈگمگاتا تو زمیندار، وہ کسان جس کا کھیت حاشیہ پر ہوتا موسم، پاس کے لڑکا لڑکی یا خوش خرام نوجوان عورتوں کو گالیاں دینے لگتا۔ چلتے چلتے قافلہ ایک تاریک ناقابل عبور فیصل کے سامنے رک گیا۔ یہ دیہاتی بلجیم کے قلعے تھے۔

    ناظرین سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ لشکر کس مہم پر روانہ ہوا تھا۔ یہاں وہ سب کچھ ہوگا جس کے لیے ہم چورن یا مار کھاتے ہیں۔ یہیں سے شاعری کا اختتام اور تعزیرات ہند کا آغاز ہوتا ہے اور حفظان صحت کے طرح طرح کے جراثیم کا انکشاف ہوتا ہے۔ کچھ منچلے یا مظلوم پہلے سے پہنچ چکے ہیں اور کسی سے وعدہ دید کے مزید کا قول و قرار ہے، وہ سراپا شوق چلا آ رہا ہے اور— کسی کا گدھا کھو گیا ہے وہ بھی بھٹکتا ہوا آ پہنچا ہے۔ یہ ارہر کے کھیت کا کرشمہ ہے کہ بچھڑے یہاں ضرور ملتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی گدھے والے کا ہاتھ عشاق کی گردن پر ہوتا ہے یا خود گدھا کسی محبوب کے پہلو میں ۔ کبھی یورپ میں ماسکو ریڈ (جشن نقاب پوشی) منایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں اس کا سماں اکثر ارہر کے کھیت میں نظر آجاتا ہے!

    جوانی کھونے کے ہندوستان میں دو بڑے جانے پہچانے مقام تھے، شہر کی گلیاں اور ارہر کے کھیت! اب ان میں یونیورسٹیوں اور کارخانوں کا بھی اضافہ کر لیا گیا ہے۔ یہاں کے بھٹکے یاراندہ و درماندہ تو شفاخانے پہنچتے ہیں یا جیل خانے! ہسپتال سے زندگی اور جیل خانے سے موت گھبراتی ہے۔ شباب اور مفلسی کا اجتماع اتنا ہی بے کیف ہے جتنا بے مرچوں کا سالن یا بے تمباکو کا پان۔ مانا کہ مرچ اور تمباکو صحت کے لیے مضر ہیں۔ لیکن تندرستی کا مصرف تندرستی کو ہر قیمت پر قائم رکھنا ہی نہیں ہے، اس سے لطف اٹھانا بھی ہے شباب میں بڑھاپے کا لفص، اگر اسے لطف کہہ سکتے ہیں، اٹھانا ممکن ہے لیکن بڑھاپے میں شباب کا کیف کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے۔ شباب اور پیری دونوں حالات منتظرہ ہیں۔ ایک کا مقصود انتظار ’’دشمنان ایمان وآگہی‘‘ یا ’’رہزن تمکین و ہوش‘‘ ہے اور ہمیشہ عقل سے شرمسار ہونے پر اصرار ہے۔ دوسری طرف پیری ہے جو عقل ہی نہیں ہر حواس سے شرمسار رہتی ہے!

    ارہر کے کھیت میں عقل سے شرمساری کی نوبت آتی ہے تو گاؤں والے بسولے سے کام لیتے ہیں اور عدالت رندے سے خبر لیتی ہے۔ کسی منچلے شہری کا ارہر کے کھیت میں دیہاتیوں کے ہاتھ سے مار کھانا اتنا ہی دلچسپ منظر ہے جتنا کسی پبلک مشاعرے میں بھلے مانس شاعر کا اپنا کلام سنانا۔

    کسان سمجھتا ہے کہ جب تک زمیندار اور پٹواری موجود ہیں اس کی ساری ملکیت منقولہ ہے، الاعورت، شہری اس کا قائل ہے کہ جب تک یورپ اور دولت کی کار فرمائی ہے اس وقت تک سب کچھ غیر منقولہ ہے لیکن عورت دیہات کا آدمی، عورت کو مایۂ عزت سمجھتا ہے، شہری وسیلۂ تفریح دیہاتی کے نزدیک عورت کا تصور یہ ہے کہ وہ اس کا مکان ہے جہاں وہ ہنستا ہے، بولتا ہے، آرام کرتا ہے، پناہ لیتا ہے اور فشار حیات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تازہ دم ہو کر نکلتا ہے۔ تعلیم یافتہ کے نزدیک عورت ایک جنسی تقاضہ ہے یا ایک وسیلہ تفنن جس کے لیے اس نے چوپاٹی اور اپالو تعمیر کر لیا ہے۔ کسان پناہ اور آرام چاہتا ہے، شہری عیاشی و ہوسناکی کے درپے رہتا ہے۔ گاؤں میں محنت، دیانت اور عورت ہے۔ شہری عورت کا طالب رہتا ہے لیکن محبت کے لیے نہیں لذت کے لیے!

    ارہر کا کھیت دیہات کی زنانہ پارلیمنٹ ہے۔ کونسل اور اسمبلی کا تصور یہیں سے لیا گیا ہے گاؤں کا چھوٹا بڑا واقعہ یہاں معرض بحث میں آتا ہے۔ فلاں کی شادی کب اور کہاں ہو رہی ہے۔ داروغہ جی کیوں آئے اور کیا لے کر گئے۔ پٹواری کی بیوی نے اس سال کون سے نئے زیور بنوائے۔ رکمینا کے بچے کیوں نہیں پیدا ہوتے اور سکھیا کے حمل کیسے ٹھیرا۔ ایک نے کہا میری گائے کے بچھیا ہو گی۔ دوسری بولی پہلوٹھی کی بچھیا ہو چکی ہے اب کے بچھوا ہوگا۔ اس پر اختلاف آرا ہوا اور ہمارے لیڈروں کی طرح دونوں بھول گئیں کہ دراصل کس شغل میں مصروف تھیں اور اب کیا ہو رہا تھا۔ ایک غوغا بلند ہوا۔ بھگدڑمچ گئی۔ کھیت کے چاروں طرف سے مرد عورت بچے، گیدڑ، کتے، لومڑی، بن بلاؤ نکلنے بھاگنے لگے، جیسے اسمبلی میں بم گرا ہو۔

    ایک روز مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ پہلے کلاس پہنچ گیا۔ معلم کی حیثیت سے کلاس میں تنہا پایا جانا پانے والوں کے لیے بڑی دلچسپی کا موجب ہوتا ہے۔ جیسے کسی غیر متوقع مقام پر کسی نادرالوجود جانور کا ڈھانچہ مل جانا۔ ایسی صورت میں ہر اس گزر جانے والے کو مخاطب کرنا اور اس سے اظہار برتری کرنا ضروری ہو جاتا ہے جس کے متعلق یہ اندیشہ ہو کہ یہ ہماری ہیت کذائی پر سوچنے کا اہل ہے۔ اس اثنا میں ایک کتا سامنے سے گزرا اور ہم نے اس طرح سے للکارا اور آمادۂ ’’نقص امن‘‘ ہوئے گویا اردو پڑھانے کے علاوہ یونیورسٹی نے ہم کو کتوں کے دفعیہ کے لیے تھا نہ دار بنا دیا تھا۔ پھر ایک بہشتی سامنے آ گیا۔ ہم نے انتہائی سر پرستانہ لہجہ میں پوچھا کیوں، اس طرف کا دروازہ کھل جانے سے تم لوگوں کو آنے جانے میں بڑی آسانی ہو گئی ہوگی؟ اس نے نہایت انکسار اور متشکرانہ انداز میں ہامی بھری۔ ابھی یہ تکلفات ختم نہیں ہوئے تھے کہ ایک خوانچہ والا دکھائی دیا۔ بولا میاں اس دروازے کی کنجی آپ ہی کے پاس رہتی ہے۔

    دروازہ کھلنے سے بڑا آرام ہو گیا۔ (خوانچہ کے اندر جو سر پر رکھا ہوا تھا کچھ ٹٹولتے ہوئے) خدا آپ کو سلامت رکھے یہ لیجیے بریلی کا بڑا تحفہ امرود ہے۔ اب سمجھ میں آیا کہ یونیورسٹی نے معلمین کے لیے کس مصلحت کی بنا پر گاؤن پہننا ضروری قرار دیا ہے۔ اتنے میں ایک طرف سے حاجی بلغ العلا اس طور پر جھپٹتے ہوئے نکلے گویا کملی اور داڑھی کے علاوہ

    عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

    حاجی صاحب کا عربی نام ’’بلغ العلےٰ‘‘ اور فارسی ’’جریب زیتونی‘‘ ہے، کچھ لوگ ’’سابق دیوانہ ہمدرد‘‘ ’’حال ابولوالجنون‘‘ کہتے ہیں۔ کچھ دونوں۔ خشت النپرایہ، پرزور لگاتے ہوئے ان دنوں ’’قانون مسعودی‘‘ کا ترجمہ کر رہے ہیں۔

    ملتے ہی فرمانے لگے جلدی سناؤ جلدی۔ میں نے کہا کیا؟ فرمایا کوئی اچھا سا شعر۔ میں نے کہا مثلاً

    وہ تری گلی کی قیامتیں کہ لحد سے مردے نکل پڑے

    یہ مری جبین نیاز تھی کہ جہاں دھری تھی دھری رہی!

    گردن ہلا کر ’’بجلوہ ریزیٔ کملی‘‘ و ’’بہ پر فشانئ ریش سکوت سخن شناس‘‘ کا اظہار کیا میں نے کہا کوئی موضوع بتائیے تو مضمون لکھوں۔ فرمایا۔

    ’’ارہر کا کھیت‘‘

    دریافت کیا کیوں جناب!اس شعر کا یہ معاوضہ، سخن فہمی کی داد دیتا ہوں، کملی کو حاجی صاحب نے جناب ’’کراماً، کے سر سے اٹھا کر ’’ کاتبین پر ڈال دیا (میں نے سہولت کی خاطر ان ’’تسمہ پا‘‘بزرگوں کے نام علیحدہ کر دیے ہیں) اگر کوئی صاحب ان کے نام و نشان، حسب نسب وطن اور مشاغل کی بابت اپنا ذخیرۂ معلومات وسیع کرنا چاہتے ہوں تو نیاز صاحب سے رجوع کریں۔ امید ہے کہ نیاز صاحب باب الاستفسار کے 'جن' نمبر میں اس پر اظہار خیال فرمائیں گے۔ فرمایا نواب صاحب کہاں ملیں گے۔ میں نے کہا نواب مزمل اللہ خاں صاحب کو یہ شعر سنائیے گا۔ کہنے لگے نہیں جی وائس چانسلر صاحب، نواب مسعود یار جنگ صاحب بہادر، میں نے کہا ان کو سنانا ہے تو پھر یہ سنائیے گا۔

    ترا کہ زور ببازوئے تیغ زن با قیست

    بگیر تیغ کہ آں حسرت کہن باقیست

    فرمایا یہ کیا، میں نے کہا اس لیے کہ

    من آں علم و ہنر را باپر کا ہے نمی گیرم

    کہ ازتیغ و سپر بیگانہ سازو مرد غازی را!

    حاجی صاحب قبلہ نے کچھ اکتا کر، کچھ بے اختیار ہو کر فرمایا ارے میاں یہ سب تو ہوا۔ کلاس میں بیٹھ کر تمھارا لکچر سنوں گا۔ میں نے کہا اور کلاس کی ڈسپلن کا کون ذمہ دار ہو گا۔ فرمایا ، السلام علیکم!

    (مضامین رشید از رشید احمد صدیقی،ص108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites