تماشا گاہِ نفس

سعادت حسن منٹو

تماشا گاہِ نفس

سعادت حسن منٹو

MORE BY سعادت حسن منٹو

    INTERESTING FACT

    نکولائی ایوری نو

    اس تمثیل کے مصنف نکولائے ایوری نوف کی بہت کم تصانیف انگریزی میں منتقل ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے افکار ہندوستان کی حدود میں ابھی تک داخل نہیں ہوئے۔ ایوری نوف، جیسا کہ مسٹر کرسٹو فرسینٹ جان( مترجم تماشا گاہِ نفس) اپنے دیباچے میں تحریر کرتے ہیں’’ گو نوجوان ہے اور خود کو ابھی مبتدی خیال کرتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ فنِ تمثیل نگاری میں دستگاہِ وافی رکھتا ہے۔ اس کی ذکاوتِ طبع قابلِ رشک ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔ مترجم کی یہ رائے بڑی حد تک درست ہے۔ ’’تماشا گاہِ نفس‘‘ ایوری نوف کی جدت پسند ذکاوت طبع کا شاہد ہے۔ گو آغاز میں یہ تمثیل خشک ہے مگر اس میں کلام نہیں کہ مصنف نے نہایت فن کاری سے اپنے پیش نظر مقصد کو نبھایا ہے۔ یہ ڈراما ہمیں چیخوف کے مشہور مطائبات’’نسبت‘‘۱ اور’’ریچھ‘‘۲ کی یاد دلاتا ہے۔ یعنی اس میں چیخوف۔۔۔۔۔۔ ’’نسبت‘‘ والے چیخوف کا رنگ جھلکیاں دکھاتا ہے۔

    شروع شروع میں جب’’تماشاگاہ نفس‘‘ طبع ہوکر عوام کے سامنے آیا تو اکثر یورپی نقادوں نے اسے سٹیج کے ناقابل قرار دیا مگر اب یہ ڈراما انگریزی سٹیج پر نہایت کامیابی سے کھیلا جا چکا ہے۔

    اگر قارئین نے ایوری نوف کی اس تمثیل کو پسند کیا تو ہم کوشش کریں گے کہ اس کے دیگر افکار فراہم کرنے کے بعد انہیں اردو کے لباس میں پیش کریں۔ (مترجم)

    افراد تمثیل

    ۱۔ پروفیسر

    ۲۔ ا۔ ۱ روح کا ناطق وجود(Rational entity of the soul)

    ۳۔ ا۔۲ روح کا جذباتی وجود(Emotional entity of the soul)

    ۴۔ ا۔۳ روح کا صمدی وجود(Sublimal entity of the soul)

    ۵۔ ب۔۲ بیوی کے متعلق ا ۔۱ کا خیال

    ۶۔ ب۔۲ بیوی کے متعلق ا۔۲ کا خیال

    ۱؂ ، ۲؂ :یہ دونوں ایک ایکٹ کے ڈرمے راقم تر جمہ کر چکا ہے۔

    ۷۔ ر۔۱ رقاصہ کے متعلقہ ا۔ ۱ کا خیال

    ۸۔ ر۔۲ رقاصہ کے متعلق ا۔۲ کا خیال

    ۹۔ قلی

    تمام واردات روح کے اندر صرف ایک لمحے کے عرصے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

    تمہید

    (پروفیسر سٹیج کے ایک بازو سے نمودار ہوتا ہے اور تختہ سیاہ کے سامنے ٹھہرکر حاضرین کو آداب بجا لاتا ہے۔ پھر چاک کی ڈلی پکڑ کر اپنا لیکچر شروع کردیتا ہے)

    پروفیسر: حضرات! آج سے کچھ ہفتے پیشتر’’ تماشا گاہِ نفش‘‘ کے غیر معروف مصنف میرے پاس اپنی اس تمثیل کا مسودہ لائے جو ابھی آپ کے سامنے سٹیج ہونے والی ہے۔ اس وقت اس کے عنوان نے میری توجہ کو کچھ زیادہ جذب نہ کیا۔ میں نے خیال کیاکہ یہ تمثیل بھی دیگر ہیجانی ڈراموں ایسی ہوگی جو عام طور پر ہماری سٹیج کو مرغوب ہیں۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے اولیں مطالعے ہی سے مجھے یہ دیکھ کر ایک خوشگوار تعجب ہوا کہ’’تماشاگاہ نفس‘‘ فی الواقع ایک سائنٹیفک پارۂ صنعت ہے جو نفسیاتی علم موجودات(Psycho physiology) کے جدید انکشافات و نظریات کے دوش بدوش کھڑا نظر آتا ہے۔ جیسا کہ آپ کو علم ہوگا ونڈٹ، فرائیڈ، تھیوفل ری بت اور دیگر سائنس دان حضرات کی تحقیقات نے قطعی طور پر یہ ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ روح غیر منقسم نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس وہ کئی ذاتوں کا مجموعہ ہے جو فطرت میں ایک دوسرے سے متخالف ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ا مجھے فرض کرلیا جائے( وہ تختہ سیاہ پر لکھتا ہے)

    الف= ا ۱+ا ۲+ ا ۳= آدمی

    اس کے یہ معنی ہوئے کہ روح تین وجودوں یعنی ا ۱، ا ۲، ا ۳ کا اجتماع ہے۔ ا ۱ ناطق موجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں ادراک، ا ۲ جذباتی وجود ہے جسے ہم احساس بھی کہتے ہیں ، ا ۳ نفسی یا سرمدی ذات ہے۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں اب یہ واضح ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ تین’’ ذاتیں‘‘ مل کر’’ تمام وجود‘‘ کو بناتی ہیں۔

    (وہ یہ لکھتا ہے-: ا۱+ا۲+ ا۳ = آدمی)

    آپ غالباً مجھ سے یہ دریافت فرمائیں گے کہ یہ ہرسہ جزوی عناصر جن سے’’ آدمیت‘‘ کی تکمیل ہوتی ہے انسانی جسم کے کس حصے میں واقع ہیں۔ زمانہ قدیم کی روایت کے مطابق یہ جگر میں واقع ہیں۔

    مگر’’تماشا گاہِ نفس‘‘ کے مصنف کا خیال ہے کہ جو میرے خیال میں بڑی حد تک درست ہے کہ روح سینے کے اس حصے کے اندر نہاں ہے جہاں لوگ، اس وقت جب انہیں اپنے ایمان و یقین کی تاکید مقصود ہوتی ہے، ہاتھ مار کر عموماً اس قسم کے جملے کہا کرتے ہیں:’’ میری روح کو سخت تکلیف پہنچی ہے‘‘ یا ’’ میری روح کو بہت مسرت حاصل ہوئی ہے‘‘ یا ’’ میری روح آتش غیظ میں جل رہی ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔ چنانچہ انسانی روح کا منظر ہمارے خیال میں کچھ اس طرح کا ہوسکتا ہے-:

    (وہ مختلف رنگ کے چاک کی ڈلیوں سے تختہ سیاہ پر ایک نقشہ بناتا ہے اور اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے)

    معزز حاضرینٖ! یہ نقشہ، جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ایک بڑے دل کے مشابہ ہے۔ یہ ایک منٹ میں ۵۵ سے۱۲۵ مرتبہ دھڑکتا ہے اور دونوں پھیپھڑوں کے درمیان واقع ہے جو ایک منٹ میں چودہ یا پندرہ دفعہ سانس لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس جگہ آپ رگوں کا ایک جال سا بنا دیکھ رہے ہیں ۔ رگوں کے یہ تاگے زرد رنگ کے ہیں۔ انہیں ہم ٹیلیفون فرض کریں گے۔۔۔۔۔۔ الغرض یہ ہے وہ منظر جہاں یہ ڈراما کھیلا جائے گا۔ مگر حضرات! سائنس نہ صرف کسی چیز کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے بلکہ ہمیں جمعیت خاطر بھی بخشتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ’’ مجھ سے احمقانہ حرکت سرزد ہوگئی ہے۔‘‘ بلکہ ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان تین’’ ذاتوں‘‘ میں سے اس احمقانہ حرکت کا کون ذمہ دار ہے۔ اگر غلطی کا ذمہ دار ا ۲ یعنی جذباتی وجود ہے تو کوئی تردد کی بات نہیں۔ اگر نفسی یعنی صمدی وجود قابل الزام ہے تو بھی معاملے کو زیادہ اہمیت نہ دینی چاہیے لیکن اگر ناطق وجود سے اس غلطی کا ارتکاب ہوا ہے تو معاملہ واقعی بہت اہم ہے۔۔۔۔۔۔ اب میں اپنا بیان یہاں بند کرتا ہوں کہ مجھے امید ہے کہ آپ کی ناقدانہ نگاہیں مصنف کی اس قابل قدر تمثیل کے متعلق اچھی رائے مرتب کریں گی۔

    (پروفیسر چلا جاتا ہے)

    ]تختہ سیاہ سٹیج سے ہٹا لیا جاتا ہے۔ پردہ اٹھتا ہے، روح کا اندرونی حصہ ظاہر ہوتا ہے(جس کا نقشہ پروفیسر نے تختہ سیاہ پر کھینچا تھا) تین’’ ذاتیں‘‘ نمودار ہوتی ہیں جو شکل و شباہت میں ایک دوسری سے بہت مطابقت رکھتی ہیں۔ تینوں نے سیاہ کپڑے پہن رکھے ہیں مگر ان کی قطع میں فرق ہوتا ہے۔ ا ۱ ایک لمبے چغے میں، ا ۲ آرٹسٹ کی پوشاک پہنے اور سرخ ٹائی لگائے ہوتا ہے اور ا ۳ سالخوردہ، سفری لباس میں ہوتا ہے۔ ان کے سراپا میں بھی یہ تحائف ہوتا ہے-: ا ۱ کے چہرے سے سنجیدگی و متانت ٹپکتی ہے، وہ چشمہ لگائے ہوتا ہے۔ اس کے بال نیم سفید اور نیم سیاہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ا ۲ کی طبیعت میں چستی اور چالاکی پائی جاتی ہے۔ اس کی حرکات میں تیزی اور جوانی ہوتی ہے۔ اس کے لب بھرے ہوئے اور سرخ ہوتے ہیں۔ ا۳ چہرے پر سیاہ نقاب ڈالے ہوتا ہے۔ وہ پس منظر میں خستہ و ماندہ مسافر کی طرح اِدھر اُدھر ٹہلتا رہتا ہے[

    ا ۲ : (ٹیلیفون پکڑ کر) ہلو! کیا؟۔۔۔۔۔۔ میری بات نہیں سُن رہے ہو؟ میں کافی بلند آواز سے بول رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ کیا؟۔۔۔۔۔۔ تمہارے کانوں میں گونج پیدا ہورہی ہے؟۔۔۔۔۔۔ یہ صرف تمہارے اعصاب کی کمزوری کا باعث ہے۔۔۔۔۔۔ لو اب سنو۔۔۔۔۔۔ برانڈی، کیا سن رہے ہو نا؟۔۔۔۔۔۔ برانڈی!

    ا ۱ : یہ واضح رہے کہ تم اسے تیسری بوتل خالی کرنے پر صرف اس لیے آمادہ کررہے ہو کہ تمہیں کسی نہ کسی طرح اپنا وقت کاٹنا ہے۔۔۔۔۔۔ بے چارہ دل! دیکھو تو وہ کس طرح دھڑک رہا ہے۔

    ا ۲:تم تو اسے ہمیشہ غشی کی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔ یہ بھی عجیب زندگی ہے!

    ا ۱: اگر حضرتِ دل اسی رفتار سے دھڑکتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ عنقریب خاموش ہو جائیں گے۔

    پھر کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ آخر کسی نہ کسی روز اسے خاموش ہونا ہے۔

    یہ تو میرے الفاظ دہرا رہے ہو۔

    کیوں نہ دہراؤں؟ بعض اوقات تم عقل کی بات بھی کہہ دیا کرتے ہو۔

    دیکھو، اعصاب کو نہ چھیڑو۔ میں تم سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ

    ( ہر بار جب اعصاب کو چھیڑا جاتا ہے تو ان میں سے ایک جھنکار کی سی آواز پیدا ہوتی ہے)

    (خشم آلود ہو کر) کہہ چکے ہو۔۔۔۔۔۔ کس سے کہہ چکے ہو؟ تم نے کس حق کی بنا پر کہا ہے؟۔۔۔۔۔۔ وہ کون ہوتا ہے جو نوکروں کی طرح مجھ سے احکام منوائے؟۔۔۔۔۔۔ میں شاعر ہوں!۔۔۔۔۔۔ محبت، جذبات۔۔۔۔۔۔ یہ ہوں میں! میرے بغیر یہ دنیا مٹی کا ایک ڈھیر ہوتی۔۔۔۔۔۔ ایک قبرستان!!۔۔۔۔۔۔ دنیا کی موجودات کی جذبات کے بغیر کچھ بھی حقیقت نہ ہوتی۔

    تم جاہلوں کی سی باتیں کررہے ہو۔

    یہ درست ہے مگر بتاؤ تو اگر ہم مے نوشی کرتے ہیں تو یہ کس کا قصور ہے؟

    تمہارا تو ہو نہیں سکتا جو ہر وقت شراب، شراب کی رٹ لگائے رکھتا ہے؟

    اگر میں شراب کی خواہش کرتا ہوں تو کیا یہ خواہش، مجبوری کا نتیجہ نہیں ہے؟۔۔۔ کیا اس کا باعث تمہاری صحبت نہیں ہے جس میں ہم لوگوں کے لئے سوائے اپنا گلا گھونٹ لینے کے اور کچھ نہیں رکھا ہے؟

    دیکھو میاں، ذرا انصاف سے کام لو۔ یہ تمہیں بہ خوبی معلوم ہے کہ اس بے چارے کی بدبختیوں کا میں ذمہ دار نہیں ہوں بلکہ خود تم ہو۔۔۔۔۔۔ ہاں تم جذباتی نفس!۔۔۔۔۔۔ تم خود غرض مند ہو۔۔۔۔۔۔ ایک تباہ شدہ انسان!!۔۔۔۔۔۔ کیا تم نے کبھی مطالعے میں دلچسپی لی ہے؟ کیا تم نے کبھی خوداری اور عقل کا کام کرنے کی کوشش کی ہے؟ کیا تم نے کبھی اخلاقی بلندی کے مسئلے پر غور کیا ہے؟

    تم محض فضیلت فروش ہو۔۔۔۔۔۔ ایک خشک کتابی کیڑے!

    میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔

    ا ۲: میں بھی تم سے اسی قدر متنفر ہوں۔

    [ ا۲ اعصاب پر زور سے ہاتھ مارتا ہے۔]

    ا ۱:ہاتھ ہٹا لو۔۔۔۔۔۔ تم میرے اعصاب کو نہیں چھو سکتے۔

    ا ۲: تمہیں یہ کہنے کا کیونکر حق حاصل ہے؟۔۔۔۔۔۔ یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ یہ اعصاب ہم دونوں کی یکساں ملکیت ہیں۔۔۔۔۔۔ میں اپنے اعصاب کو ہاتھ لگا رہا ہوں نہ کہ تمہارے اعصاب کو۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں کے اعصاب قریب قریب ہونے سے تم ایک عنایت مجھ پر ضرور کرتے ہو کہ میرے اعصاب بھی اکثر اوقات بالکل مردہ ہو جاتے ہیں اور میں بیل کی طرح بیوقوف بن جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اسی قدر بے وقوف جس قدر کہ تم خود ہو۔۔۔۔۔۔ تم مجھے ان کو چھونے سے باز نہیں رکھ سکتے ہو۔ میں ان میں تناؤ اور کشیدگی پسند کرتا ہوں۔ اس طرح وہ اپالو کا تنبورا بن جاتے ہیں جس پر میں محبت اور آزادی کا راگ الاپ سکتا ہوں۔( وہ اعصاب کو چھیڑتا ہے۔ دل زیادہ تیزی سے دھڑکنا شروع کردیتا ہے)۔۔۔۔۔۔ برانڈی!

    ا ۱: ( ا۲ کے ہاتھ سے ٹیلیفون چھین کر) شربت!

    ا ۲: (ٹیلیفون اپنے قبضے میں لے کر) برانڈی!

    ا ۱: ( ا۲ سے پھر ٹیلیفون چھین کر) شربت!۔۔۔۔۔۔ کیا سن نہیں رہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا؟۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ تو پھر بھاگ کر عطار کی دکان پر جاؤ! شربت۔۔۔۔۔۔ گلاس بھر کے! (ٹیلیفون چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں سٹیج پر اِدھر اُدھر چلنے کے بعد پھر ہم کلام ہوتے ہیں) اب طبیعت میں سکون آیا کیا؟

    ا ۲: تم کون ہو؟

    ا ۱: خود دیکھ لو۔

    (دونوں تحت الشعور وجود(Subconcious Entery) کے قریب جاتے ہیں، چند لمحے خاموشی طاری رہتی ہے)

    ا ۲: یہ کون ہے؟

    ا ۱: سکوتِ اعظم!۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح خاموش۔اس کے سکون میں خلل نہ ڈالو۔ اگر تم نے ایسی حرکت کی تو خیال رہے یہ تمہارے ہی حق میں بری ثابت ہوگی(ٹیلیفون پکڑ کر) کیا تم پی چکے ہو؟۔۔۔۔۔۔ اچھا، تو اب میں کوشش کرتا ہوں کہ اسے راہ راست پر لاؤں۔ مگر قصہ یہ ہے کہ میں ابھی تک اصل معاملے کو اچھی طرح سمجھنے نہیں پایا۔۔۔۔۔۔ ایک عورت کی ذکاوت نے تمہیں مسحور کرلیا ہے۔۔۔۔۔۔ یہی ہے نا؟۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی سی چیز کے لئے اپنی عورت اور بچوں کو ٹھکرا دینا۔۔۔۔۔۔ معاف کرنا، مگر یہ کوئی حل نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم کثیر الازواجی کا دامن تھام لیں جو دراصل جنگلیوں کا مطمح نظر ہے۔ یعنی ٹانگ اور کمر کی ساخت پر غور کرنا اور ایک غیر فانی معبد کے حسنِٗ تعمیر کو نظر انداز کردینا۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب روح سے ہے۔۔۔

    ا ۲: ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہارے عقاید و خیالات کی مجھے کیا پروا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔ پھر اس بحث کی ضرورت؟

    ا ۱: وحشی حیوان یقیناًنیک و بد میں تمیز نہیں کرسکتا ہے مگر انسان۔۔۔۔۔۔ جسے احساس کی منطق سے آشنا ہونا سزاوار ہے۔۔۔۔۔۔(ٹیلیفون کا رخ کرتا ہے)

    ا ۲: توبہ! تم کس قدر پاگل اور احمق ہو۔۔۔۔۔۔ تم ایسے روکھے اور خشک مزاج ساتھی کی صحبت میں مجھے کس قدر اذیت سہنا پڑتی ہے۔

    ا ۱: آج سے قبل تم ایسی باتیں نہیں کیا کرتے تھے!

    ا ۲: تم سچ کہہ رہے ہو، جب ہم دونوں ایک ساتھ خوش اسلوبی سے کام کیا کرتے تھے تو میں واقعی تم سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ میں تمہاری وہ خدمات ہرگز فراموش نہیں کرسکتا جو تم نے میرے لیے اس وقت سرانجام دی تھیں جب کہ میں اینٹے کی محبت میں گھلا جارہا تھا۔ اس محتاط لڑکی کو پھانسنے اور اس کے والدین کو آمادہ کرنے میں تم نے واقعی بہت مدد دی۔۔۔۔۔۔ اس وقت تم نے خوب جوہر دکھائے۔ مگر اب کچھ عرصے سے تم نہ صرف کم عقل ہوتے جارہے ہو بلکہ زنگ آلود استرے کے مانند کند ہوگئے ہو۔

    ا ۱: اس نوازش کا شکریہ! میں واقعی حساس نہیں ہوں مگر مجھے یہ بخوبی معلوم ہے کہ اس رائے کے مرتب کرنے میں برانڈی کا بیش از بیش حصہ ہے۔

    ا ۲: آہ میرے اللہ! وہ کس قدر حسین ہے!!۔۔۔۔۔۔ تم یہ ضرور بھول گئے ہو کہ وہ حسین ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں، مجھے معلوم ہے کہ وہ قہوہ خانے کی ایک معمولی رقاصہ ہے مگر اس سے کیا مطلب؟۔۔۔۔۔۔ تم اس کے حسین چہرے اور گداز جسم کو پیش نظر نہیں رکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔ آؤ میں تمہیں یہ حسینہ دکھاؤں۔(سٹیج کے داہنے بازو سے’’ د ا ‘‘ کو بلاتا ہے)، گا!۔۔۔۔۔۔ اسی انداز سے گا جیسے تو کل، پرسوں، پچھلے ہفتے۔۔۔۔۔۔ گزشتہ اتوار کو گائی تھی۔۔۔۔۔۔ گا!۔۔۔۔۔۔ دیکھ میں التجا کررہا ہوں ا ۱ سے مخاطب ہوکر جو اس عورت کا سایہ دیکھ کر اس کی طرف پشت کرلیتا ہے) آہ! تم اس میں میرا ساتھ کیوں نہیں دیتے

    (’’رقاصہ ا ‘‘۔۔۔۔۔۔ وہ گاتی ہے اور دل کی دھڑکن کی تال کے ساتھ رقص کرتی ہے جو فرطِ مسرت کے باعث زور زور سے دھڑک رہا ہے)

    کیا یہ تم ہو؟

    کیا یہ تم ہو؟

    کیا تم وہی شکیل نوجوان ہو۔۔۔۔۔۔

    جو کل شب میری آغوش کے قریب تھا۔۔۔۔۔۔

    ٹرین کی تاریکی میں میرے اس قدر نزدیک تھا۔

    میں اس وقت تمہیں دیکھ نہ سکی تھی۔۔۔۔۔۔

    ٹرین میں بہت اندھیرا تھا!

    مگر تمہارے دیدار کے لیے میریں نظریں بیتاب ہیں

    کیا تم وہی ہو؟

    کیا تم وہی ہو؟

    جسے میرے شیریں بوسوں نے

    محبت کا دیوانہ بنا دیا ہےٖ!

    کل شب ٹرین میں،

    میرے پاس ایک نوجوان بیٹھا تھا،

    میں اس کی طرف دیکھنے کے لیے مڑی

    اسی وقت روشنی گل ہوگئی،

    میرے دیوانے ہم سفر نے اپنے آپ کو میری گود میں گرا دیا۔

    میں نے اسے پراز شوق بوسے دیے،چھاتی سے بھینچ لیا۔۔۔۔۔۔ مگر اس دن سے میں اس کی تلاش میں پھرا کی ہوں

    میں ہر راہ گزر کے چہرے کی طرف دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔ پوچھتی ہوں

    کیا تم ہی وہ ہو؟

    کیا تم ہی وہ ہو؟

    کیا وہ نوجوان تم ہی ہو، جو کل شب میری آغوش کے قریب تھا؟

    ٹرین کی تاریکی میں میرے اس قدر نزدیک تھا۔‘‘

    ا ۲: (مسحور ہو کر) آہ، وجدانِ محبت!۔۔۔۔۔۔ تمام کائنات اس سرور، اس کیف کے آگے ہیچ ہے!! یہ باہیں، یہ پیر!۔۔۔۔۔۔ میرے خدا اس بھری دنیا میں ایسا کون سا قالین ہے جو ان پیروں کے لیے اپنا سینہ پیش کرسکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ وہ اس قدر دلفریب ہیں کہ میری آنکھوں میں آنسو لے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھ پر ناچو! میرے اندر ناچو! اور ناچتی رہو۔۔۔۔۔۔(اس کے پیروں اور ہاتھوں سے لپٹ کر پیار کرتا ہے)

    ا ۱: یہ دیوانگی ہے، جہالت ہے!! اسے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ یہ محض تخیل کی کار فرمائیاں ہیں۔ وہ فی الواقع ایسی نہیں جیسی تم سمجھ رہے ہو۔ تم غازہ لگے ہوئے چہرے کو چوم رہے ہو، مصنوعی بالوں سے پیار کررہے ہو۔۔۔۔۔۔ اس کی عمر چالیس سے کیا کم ہوگی۔ جو کچھ بھی تم دیکھ رہے ہو محض فریب نظر ہے۔ اسے دیکھنا ہے تو حقیقت کا مشاہدہ کرو( ا ۱ کی گفتگو شروع ہونے پر رقاصہ نمبر ایک غائب ہو جاتی ہے۔ ا ۱رقاصہ نمبر۲ کو بلاتا ہے جس کی شکل بڑھاپے کی وجہ سے بدنما ہورہی ہے)دیکھو، اگر تم حقیقت دیکھنا چاہتے ہو تو اسے ایک نظر ہی دیکھو!۔۔۔۔۔۔ ان ملکوتی پیروں کی طرف نگاہ کرو۔۔۔۔۔۔ وہ کتنے کُھردرے اور سخت ہیں! شاندار سر دیکھو۔۔۔۔۔۔ کہاں گئے اس کی زلفوں کے وہ پیچ وخم!(رقاصہ کے سر سے اس کے مصنوعی بال اتار کر اس کے گنجے سر کی نمائش کراتا ہے) دانتوں کی یہ ستاروں ایسی لڑیاں نکال دو!(رقاصہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے مصنوعی دانت منہ سے نکال دیتی ہے)۔۔۔۔۔۔ اب گاؤ!

    (وہ ناک میں نہایت ہی کن سُرے لہجے میں گاتی ہے اور اس طرح پاؤں اٹھا کر ناچتی ہے جیسے کسی عمر رسیدہ گھوڑی کو قصاب خانے کی طرف لے جایا جارہا ہو)

    ا ۲: نہیں نہیں، یہ حقیقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہ اصلیت نہیں ہے( رقاصہ نمبر۲ سے مخاطب ہوکر)’’ بھاگ جاؤ، نظروں سے غائب ہو جاؤ‘‘،( اسے زبردستی دھکے دے کر بھگانا چاہتا ہے)

    ا ۱: کیا خفا ہوگئے۔۔۔۔۔۔تو پھر تمہیں اپنی غلطی کا اعتراف ہے نا؟

    ا ۲: مجھے کسی چیز کا اعتراف نہیں ہے۔ تم نے ضرور کوئی نہ کوئی چالاکی کی ہے۔۔۔۔۔۔

    ا ۱: تمہیں بخوبی معلوم ہے کہ جس عورت پر تم اس بری طرح سے لٹو ہوئے جارہے ہو وہ اس عورت کی جوتیاں صاف کرنے کے قابل بھی نہیں ہے، جسے تم دھوکا دینا اور ٹھکرا دینا چاہتے ہو۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر اس کی وجہ؟( وہ سٹیج کے داہنے بازو سے’’بیوی نمبر ایک‘‘ب ۱ کو بلاتا ہے۔ وہ بچے کو کھلا رہی ہے) شاید اس لیے کہ اس کا سلوک تمہارے ساتھ ہمیشہ اچھا رہا ہے؟۔۔۔۔۔۔ یا اس لیے کہ اس نے تمہارے بچے کو پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ مجھے تسلیم ہے کہ وہ تمہاری قہوہ خانے کی رقاصہ کی طرح گا نہیں سکتی مگر سنو! اگر تمہارے کان پاک آواز سن سکتے ہیں تو وہ لوری سنو، جو تمہارے بچے کو سلانے کی خاطر دی جارہی ہے۔ آہ! وہ متواتر تین راتوں سے اس طرح گاتی رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ راتیں جو تمہارے انتظار کی درد آفریں گھڑیاں گنتے اس کی آنکھوں میں کٹی ہیں( ب۱ مدھم آواز میں لوری گاتی ہے)

    سوجا، میرے ننھے سو جا!

    میری جان، درد ابھی غائب ہو جائے گا

    صبر کر!۔۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہا ہے؟

    ’’ابا!۔۔۔۔۔۔ میرے ابا کہاں ہیں‘‘؟

    میرے لال، تیرے ابا ابھی تیرے پاس آجائیں گے

    انہیں بہت کام کرنا پڑتا ہے، میرے پیارے!

    مگر وہ ابھی تیرے لیے ایک اچھا سا کھلونا لے کر آئیں گے۔

    لکڑی کا گھوڑا۔۔۔۔۔۔ کیا تو اسے پسند نہیں کرے گا؟

    لے اب خوش ہو جا۔۔۔۔۔۔ لکڑی کا گھوڑا، تیری سواری کے لیے!

    سو جا! میرے ننھے سو جا!

    ا ۲: بس، بس، اب مذاق حد سے گزر چکا ہے۔ اس میں سچائی کا شائبہ تک موجود نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سب من گھڑت ہے۔(وہ بڑے زور سے ‘‘ب۱‘‘ کو دھکا دیتا ہے) جاؤ، جاؤ، یہاں سے دور ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔ تمہارا یہ تصور حقیقت میں وہ رنگ روپ نہیں رکھتا جو تم ظاہر کرنا چاہتے ہو۔ میں اس عورت کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس نے میری تمام زندگی کو مسموم بنا رکھا ہے۔ وہ شعریت سے خالی ہے۔ مسرت اور جذبات اس میں ذرہ بھر موجود نہیں۔ وہ نثر کے مرادف ہے۔۔۔۔۔۔ بے لطف نثر کے مانند! ازلی گرہستن۔۔۔۔۔۔ یہ ہے حقیقت میں وہ عورت!

    ہ’’ ب۲‘‘ کو بلاتا ہے۔ ایک معمولی پھوہڑ عورت آتی ہے۔ اس کے پریشان بال نہایت بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے ہیں وہ ایک غلیظ کرتا پہنے ہوتی ہے جس پر چائے کے داغ پڑے ہوتے ہیں۔ یہ کُرتا چھاتی سے کھلا ہوتا ہے)

    د ۲: (ترش روئی سے) یہ بھی عجیب زندگی ہے!۔۔۔۔۔۔ کاش میرے والدین کو صرف یہ خبر ہوتی کہ میں اس حیوان کے پلے بندھ کر کیسی عذاب بھر زندگی بسر کررہی ہوں! مجھے تو یہ تعجب ہے کہ ایسے شرابی کو دفتر سے دھکے مار کر باہر کیوں نہیں نکال دیا جاتا۔۔۔۔۔۔ بغیر شراب پیے اس کا مجہول دماغ کام ہی نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔ میرے اس خاوند نے میری گود میں بچے ڈال کر نہایت کرم فرمائی کی ہے، مگر آپ ہے کہ ان عورتوں کے پیچھے مارا مارا پھرتا ہے جو بچے جننے کے قابل نہیں ہیں اور اگر جنتی ہیں تو انہیں اپنے جسم کی دلکشی کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔ میرا آدمی فنونِ لطیفہ کا دلدادہ ہے، یعنی تھیٹر کا۔۔۔۔۔۔ تھیٹر بھی وہ ایک غلیظ قہوہ خانے میں واقع ہے۔ یہاں وہ عصمت باختہ عورتوں کے ساتھ، جن کے چہرے غازے کی تہوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں، کھلم کھلا شراب نوشی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ ان عورتوں کے ساتھ، جن کو میں چُھونا تک پسند نہیں کرتی۔ مجھے یقین ہے کہ کسی روز وہ گھر آئے گا اور اپنے بچوں کو زہر دے دے گا۔۔۔۔۔۔ ذلیل دہریہ، جو مقدس صلیب کے آگے جھکنے سے منکر ہے۔۔۔۔۔۔ گو اول درجے کا بے وقوف ہے مگر فلسفیانہ باتیں ضرور کرے گا!۔۔۔۔۔۔ جب دیکھو آزادی، شہری کے فرائض اور اسی قسم کی دیگر فضولیات کا راگ الاپتا رہتا ہے آزادی! آزادی! اس لیے کہ وہ اسے اور بھی حیوان بنا دے ٹھہر تو سہی پہلے میں تو تجھے آزاد کردوں۔

    ا۲: درست، بالکل درست! یہ ہے اس ڈرامے کی اصل ہیروئن۔۔۔۔۔۔ یہی ہے وہ عورت جسے میں اس ملکوتی ہستی کی خاطر چھوڑنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ جس نے میری زندگی میں افسوں پھونک دیا ہے اور جو اس بھیانک دنیا میں میرے زندہ رہنے کا باعث ہے۔

    یہ کہتے ہوئے وہ’’وہ رقاصہ نمبر۱‘‘ کو بلاتا ہے۔ وہ ناچتی ہے اور گاتی ہے اور’’ب ۲‘‘ کو سٹیج کے اندھیرے کونے میں دھکیلتی جاتی ہے مگر اسے بھی اب پیچھے ہٹنا پڑتا ہے چونکہ’’ب۱ نفرت کا اظہار کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔

    ب۱: (رقاصہ نمبر۱ سے) جاؤ، دیکھو میں التجا کررہی ہوں، جاؤ۔ تمہارا یہاں کوئی حق نہیں ہے۔

    الف۱: واقعی کوئی حق نہیں ہے، وہ درست کہتی ہے!

    ب۱: جب تم اس سے محبت نہیں کرتی ہو، جب تم اس کے لئے چھوٹی سے چھوٹی قربانی نہیں کرسکتی ہو۔۔۔۔۔۔ جب تم اپنے زندگی میں ایسے کئی آدمیوں کی آشنا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ تو اسے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ اگر تمہارے دل میں نسوانیت ابھی تک مردہ نہیں ہوئی تو خدا کے لیے اس کا خیال چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ مجھے اس کی محبت اور اس مدد کی ضرورت ہے۔ آہ! اسے مجھ سے علیحدہ نہ کرو، اسے ان لوگوں سے چھیننے کی کوشش نہ کرو جنہیں وہ عزیز ہے۔۔۔۔۔۔

    د ۱: (ہنسی اڑاتے ہوئے اس کی بات کاٹ کر) میں اس قسم کی باتیں سننے کی عادی ہوں۔ میں انہیں بہت مرتبہ سن چکی ہوں۔۔۔۔۔۔ یہ بالکل بے معنی ہیں۔

    ب۱: جاؤ، سنتی ہو، میں کیا کہہ رہی ہوں۔ جاؤ! مجھے اس طرح نہ دھکیلو۔

    د۱: اچھا، خیر سے اب تم مجھے دھمکانے بھی لگی ہو!۔۔۔۔۔۔ کیا میں پوچھ سکتی ہوں یہ دھمکیاں کیوں؟ تم مجھ سے متنفر کیوں ہو؟۔۔۔۔۔۔ کیا اس لیے کہ میری ٹانگیں خوبصورت ہیں اور میرا بدن گدرایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ یا اس لیے کہ میرے الفاظ پرندوں کی طرح پرواز کرتے ہیں اور شیمپئن کی بوتلوں کے ڈاٹ کی طرح اچھلتے ہیں؟

    ا۲: شاباش!شاباش!!

    ب۱: تمہیں اگر خواہش ہے تو صرف اس کی دولت کی، اے بازار میں بکنے والی لونڈی!

    د۱: کیا کہا؟ میں بازار میں بکنے والی لونڈی ہوں، تو بتا تو کیا ہے؟ کیا اس شخص سے شادی کرتے وقت تو نے اپنے آپ کو اس کے ہاتھ فروخت نہیں کیا تھا؟۔۔۔۔۔۔ اپنے الفاظ کو واپس لے۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں فوراً واپس لے لو ورنہ۔۔۔۔۔۔

    (وہ حملہ کرنے کے لیے’’ب۱ ‘‘ کی طرف بڑھتی ہے)

    ب۱: تمہیں یہاں سے جانا ہوگا!۔۔۔۔۔۔ تمہیں یہاں سے جانا ہوگا!!

    (دونوں ایک دوسرے سے الجھ پڑتی ہیں اور لڑنا شروع کردیتی ہیں۔ مضطرب دل ان کی لڑائی کے دوران میں شور کے ساتھ دھڑکتا رہتا ہے۔ وہ دونوں تھوڑی دیر کے لیے سٹیج کے ایک تاریک کونے میں غائب رہ کر پھر ظاہر ہوتی ہے۔ اب ان کا غصہ زیادہ تیزی پر ہوتا ہے۔’’ب۱ ‘‘ دانتوں سے’’رقاصہ۱ ‘‘ کے بال پکڑے ہوتی ہے۔ مگر انجام کار میدان رقاصہ کے ہاتھ رہتا ہے۔ تھوڑی دیر کی مڈبھیڑ کے بعد سٹیج پر’’ب۱ ‘‘،’’د۱ ‘‘ کے نیچے دبی ہوئی نظر آتی ہے۔’’ب۱ ‘‘ اپنے آپ کو چھڑا کر روتی ہوئی بھاگ جاتی ہے،’’ا۲ ‘‘اور’’د۱ ‘‘ ظفر مندانہ قہقہے بلند کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر’’ا۱ ‘‘ رقاصہ کے کانوں پر تھپڑ مارتا ہے جس پر وہ چابک کھائی ہوئی کتیا کی طرح چلاتی ہوئی سٹیج کی پشت کی طرف بھاگ جاتی ہے۔ یہ منظر’’ا۲‘‘ کو غصے سے دیوانہ بنا دیتا ہے وہ بپھرا ہوا بڑھتا ہے اور’’ ا۱‘‘ کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔۔۔۔۔۔ دل ایک لمحے کے لئے ساکت ہوجاتا ہے۔ یہ دیکھ کر کہ اس کا دشمن مر گیا ہے’’ ا۲‘‘ اپنے آپ کورقاصہ کے قدموں پر گرا دیتا ہے)

    آہ، اے میری ملکہ آ!۔۔۔۔۔۔ پیاری اب تم میری ہو۔۔۔۔۔۔ صرف میری ہو، ہمیشہ کے لیے میری ہو۔۔۔۔۔۔ میری زندگی، میری مسرت، میری محبت!۔۔۔۔۔۔آ،میرے پا س آ!!

    نہیں، بیوقوف انسان نہیں!۔۔۔۔۔۔ آہ نہیں!! یہ سب مذاق تھا۔سب سے پہلے روپے، پھر محبت کا تذکرہ، مگر جیسا کہ میں دیکھ رہی ہوں یہاں روپے سے محبت زیادہ مقدار میں ہے۔۔۔۔۔۔ اور روپیہ آئے گا بھی کہاں سے؟۔۔۔۔۔۔ نہیں، نہیں، نہیں! میں تیری نہیں ہوسکتی!۔۔۔۔۔۔ میرے بھولے عاشق یہ سب مذاق تھا۔۔۔۔۔۔

    (وہ چلی جاتی ہے)

    [’ ا۲‘‘ مغموم و متعجب کھڑا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ موسیقی کی دل خراش و پریشان کن آواز کے ساتھ’’ب۱ ‘‘ ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اپنی مغموم آنکھوں سے’’ ا۲ ‘‘ کی طرف دیکھتی ہے۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ آیا وہ اپنے بچے کو کھلا رہی ہے یا ’’ا۲‘‘ کو لعن طعن کررہی ہے]

    ا۲: (ٹیلیفون کو دیوانہ وار پکڑتے ہوئے) جلدی، بس اب جلدی کرو! سب معاملہ درہم برہم ہو چکا ہے۔ اب میرے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔ میں تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہوں میں التجا کرتا ہوں کہ اب جلدی کرو۔ پستول داہنے ہاتھ کی جیب میں ہے۔۔۔۔۔۔ جلدی، آہ جلدی کرو! مجھ پر یقین کرو بالکل تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔ چوتھی اور پانچویں پسلی کے درمیان رکھ کر لبلبی دبا دو؟۔۔۔۔۔۔ کیا؟۔۔۔۔۔۔ تم ڈرتے ہو؟۔۔۔۔۔۔ مگر سوال ہے ڈر کس کا؟۔۔۔۔۔۔ یہ تمام معاملہ صرف ایک لمحے میں ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔ لو اب جلدی کرو!

    [تھوڑا سا توقف جس کے دوران میں’’ ا۳‘‘ دفعتاً جاگ کر اپنے گردوپیش پریشان نظروں سے دیکھتا ہے۔ اسی اثنا میں ایک زبردست دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز روح کی گہرائیوں میں گونجتی ہے۔ دل میں ایک بڑا سا شگاف ہو جاتا ہے، جس سے خون کی دھار بہنا شروع ہو جاتی ہے۔’’ ا۲‘‘ درد و کرب ۱میں پیچ و تاب کھاتا ہوا دل کے خون میں غرق ہو جاتا ہے۔ دل ساکت ہو جاتا ہے۔ پھیپھڑے سانس لینا بند کردیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک وقفہ۔۔۔۔۔۔’’ ا۳‘‘ کانپتا ہے اور انگڑائی لیتا ہے۔ ایک قلی ہاتھ میں لالٹین پکڑے اندر داخل ہوتا ہے]

    قلی: ’’ سب لوگوں کا گاؤں‘‘ آگیا ہے۔ حضور کو یہاں سے گاڑی تبدیل کرنی ہے۔

    ا۳: شکریہ!۔۔۔۔۔۔ مجھے گاڑی یہیں سے بدلنی ہے۔

    [وہ ٹوپی پہن کر اور اپنا سفری بیگ پکڑ کر قلی کے ساتھ گاڑی سے اتر جاتا ہے]

    (پردہ)

    ڈرامہ:نکولائی ایوری نو

    مآخذ:

    • کتاب : ڈرامے (Pg. Drame)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY