Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عدنان منور کا ادراکی تنقیدی مطالعہ

فرحت عباس شاہ

عدنان منور کا ادراکی تنقیدی مطالعہ

فرحت عباس شاہ

MORE BYفرحت عباس شاہ

    عدنان منور کی شاعری کو اگر ادراکی تنقیدی تھیوری کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ کلام محض سادہ اور جزباتی اظہار نہیں بلکہ شعور، ادراک اور تجربۂ وجود کی ایک مسلسل تشکیل بن کر سامنے آتا ہے، جہاں وقت، ذات، یاد، روشنی، تاریکی اور فراق محض موضوعات نہیں رہتے بلکہ ادراک کے فعال مظاہر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، شاعر کی پہلی غزل میں رات کا خود سے ملاقات ہونا، پہلو میں رات کا واقع ہونا، حسن و عشق کا ترازو میں برابر رکھا جانا اور مدینے سے مصرع کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر کے ہاں خارجی مظاہر داخلی شعور میں تحلیل ہو کر نئی معنوی صورتیں پیدا کرتے ہیں، یہاں نعت کا جنم لینا مذہبی جذبے سے زیادہ ادراکی تسلسل کا نتیجہ ہے، جہاں لفظ اپنے ماخذ سے کٹ کر نہیں بلکہ شعور کے اندرونی نظام سے جڑ کر ظہور میں آتا ہے، اسی طرح خال و خد کا بولنے لگنا، خوشبو کا پھولوں سے رشک کروانا اور وقت کا ٹھہر جانا دراصل اس ادراکی لمحے کی علامتیں ہیں جہاں شاعر زمان و مکان کی سطحی حرکت سے اوپر اٹھ کر وجودی کیفیت کو گرفت میں لیتا ہے، دوسری نظم میں روشنی ایک مادی شے نہیں بلکہ امید، شعور اور معنوی بقا کی صورت سامنے آتی ہے، تاریکی سے تھکن، بجھے دل کو روشن کرنے کی خواہش اور لو کی طلب اس داخلی اضطراب کو ظاہر کرتی ہے جو پرسیپشنزم میں انسانی ادراک کے ارتقا کا بنیادی محرک سمجھا جاتا ہے، یہاں مٹی اور پانی کی تمیز، چاک اور گارے کی ترکیب اور چھونے سے روشن ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر کے ہاں ادراک لمس، تجربے اور ربط سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ محض تصور سے، تیسری نظم میں در، مکان، مکیں، زخم، بادبان، سمندر اور آگہی کے استعارے ایک ایسے شعوری نقشے کی تشکیل کرتے ہیں جہاں انسان دو جہانوں کے درمیان کھلا ہوا کھڑا ہے، اور یہ کھلنا محض جسمانی نہیں بلکہ ادراکی انکشاف ہے، آگہی کا دستک دینا اور نوجوان کا بزرگوں پر کھلنا اس فکری جرات کی علامت ہے جو روایت کو منہدم نہیں کرتی بلکہ اس کے اندر نئے معنی دریافت کرتی ہے، آخری غزل میں محبت، فراق، نقل مکانی، آنسو، صدف، پانی، بچپن اور جوانی سب مل کر ایک ایسی ادراکی لغت بناتے ہیں جس کا کلیدی استعارہ آئینہ ہے، کیونکہ پرسیپشنزم کے مطابق آئینہ محض عکس نہیں دکھاتا بلکہ دیکھنے والے کے شعور کو اس کے سامنے عریاں کر دیتا ہے اور عدنان منور اسی آئینے کے معانی کھول کر قاری کو اپنے ادراک کی تربیت پر مجبور کرتا ہے، یوں اس کا کلام اس بات کا واضح ثبوت بن جاتا ہے کہ جدید اردو شاعری میں سنجیدہ شعور، داخلی تجربے اور ادراکی گہرائی کی روایت نہ صرف زندہ ہے بلکہ نئی فکری توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

    نمونہ کلام,

    رات بھر خود سے ملاقات ہوا کرتی تھی

    اپنے پہلو میں کبھی رات ہوا کرتی تھی

    حٌسن اور عشق ترازو میں رکھے جاتے تھے

    یکساں دونوں کی مٌدارات ہوا کرتی تھی

    کوئی مصرع کہیں آتا تھا مدینے سے مجھے

    اور پھر اس پہ نئی نعت ہوا کرتی تھی

    خال و خد بولنے لگتے تھے مرے لفظوں میں

    اٌس کے چہرے پہ بہت بات ہوا کرتی تھی

    میں سنبھالے ہوئے رکھتا تھا دل و جاں کو مگر

    ہر طرف گردشِ حالات ہوا کرتی تھی

    پھول کرتے تھے بہت رشک مری قسمت پر

    میری خوشبو سے ملاقات ہوا کرتی تھی

    کھیل جی جان سے ہم کھیلنے جاتے تھے وہاں

    جیت ہوتی تھی کبھی مات ہوا کرتی تھی

    اب تو ٹھہرا ہوا لگتا ہے مجھے وقت عدنان

    دن نکلتا تھا کبھی، رات ہوا کرتی تھی

    *

    ہم نے قسمت سے جو یہ وقت گزارا روشن

    کیا فلک پر ہے کہیں کوئی ستارہ روشن

    تھک گیا ہوں میں بہت روز کی تاریکی سے

    کوئی کر دے مرے منظر کو خدارا روشن

    اے مرے یار تری لو کی ضرورت ہے کہ آج

    مجھے کرنا ہے بجھے دل کو دوبارہ روشن

    خوش نظر شخص تو جاتا ہے اسی جانب کیوں

    جس طرف ہے ہی نہیں کوئی اشارہ روشن

    ورنہ میں چاک پہ ہی راکھ ہوا جاتا تھا

    تیرے چھونے سے ہوا ہے مرا گارا روشن

    *

    یوں بھی رکھے ہیں میں نے کان کٌھلے

    تا کہ اٌس لب سے داستان کٌھلے

    کون سی خاک سر بلند ہوئی

    کن زمینوں پہ آسمان کٌھلے

    تا کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں

    زخم بھر جائے یا نشان کٌھلے

    کس نے کرنا ہے یہ سمندر پار

    کون رکھتا ہے بادبان کٌھلے

    در بہت دیر میں مِلا یعنی

    جب مکیں گُم ہوئے مکان کٌھلے

    آگہی نے دروں پہ دستک دی

    اور بزرگوں پہ نوجوان کٌھلے

    آدمی پر ہزارہا رستے

    دو جہانوں کے درمیان کٌھلے

    ہوتے ہوتے ہی چھاؤں پوری ہوئی

    کھلتے کھلتے ہی سائبان کٌھلے

    کر رہے ہیں شکار پریوں کا

    پھر رہے ہیں درندگان کٌھلے

    اپنی وحشت کو آئنہ کر کے

    خاک اڑاؤ کہ خاک دان کٌھلے

    *

    کیا ہے محبتوں کی نشانی سمجھ میں آئے

    اے دل سمجھ میں آ کہ کہانی سمجھ میں آئے

    تو بھی گزر فراق سے رہ میں رکے بغیر

    تجھ کو بھی آنسوؤں کی روانی سمجھ میں آئے

    اُس اُس پہ فرض ہے مری امداد شہر میں

    جس جس کو میری نقل مکانی سمجھ میں آئے

    موجوں کی تہ میں کون صدف رکھنے والا ہے

    مٹی سمجھ میں آ گئی پانی سمجھ میں آئے

    کب تم پہ میرے شعر کٌھلیں اور نہ جانے کب

    تم کو مری یہ سحر بیانی سمجھ میں آئے

    پھولوں کی سَمت جاؤں کِھلونوں سے ہو کے میں

    بچپن گزر گیا ہے جوانی سمجھ میں آئے

    عدنان خال و خد کی لغت کھول دی گئی

    اب تم کو آئنے کے معانی سمجھ میں آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے