عرفان صدیقی کی غزل

شمس الرحمن فاروقی

عرفان صدیقی کی غزل

شمس الرحمن فاروقی

MORE BYشمس الرحمن فاروقی

    یہ مضمون لکھنے کے لئے میں نے عرفان صدیقی کا کلام پڑھنا شروع کیا تو جگہ جگہ مجھے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ہمارے زمانے میں ایسی شاعری بھی ہوسکی ہے ، ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی ؟ کیا ہم لوگوں نے عرفان صدیقی کے ساتھ انصاف نہیں کیا ؟ کیا ان کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد بھی ہم انہیں اس طرح یاد نہیں کررہے ہیں جیساکہ ان کا حق تھا ؟ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ عرفان صدیقی کے کلام کا ہزار قائل ہونے کے باوجود میں ان پر کبھی کوئی مضمون نہ لکھ سکا ۔ایک ایک تبصرہ میں نے ضرور لکھا ، اور وہ تبصرہ خاصا مفصل تھا ، لیکن تبصرہ تو ایک ہی کتاب پر ہوتا ہے ۔ پوری شاعری کا حوالہ تبصرے میں ممکن نہیں ۔ کیا وجہ تھی کہ انہیں اور ان کے کلام کو بے حد چاہنے کے باوجود میں نے ان پر کچھ سیر حاصل لکھا نہیں ؟ یہ ضرور ہے کہ میں نے ’’ شب خون ‘‘ میں انہیں بہت چھاپا اور عزت کے ساتھ چھاپا اور مسلسل چھاپا ۔اور شاید اس باعث ان کا کلام دور تک پھیلا بھی اور ان کے قدر دانوں کی تعداد بھی بڑھی ۔ نیر مسعود اور محمد مسعود نے عرفان صدیقی سے ایک بار بہت لمبی گفتگو ریکارڈ کی تھی جو کئی سال بعد ’’شب خون ‘‘ ، شمارہ ۲۷۹ ، بات ماہ فروری ۲۰۰۵ ء میں شائع ہوئی ۔ اس گفتگو کے شروع میں ہی نیر مسعود نے قائم چاند پوری کا ذکر کیا جو بقول نیر ’’ میر اور سودا کے ہم پلہ شاعر ‘‘ تھے لیکن قائم کو وہ شہرت نہ ملی جس کے وہ مستحق تھے ۔اس کے بعد نیر مسعود نے عرفان صدیقی سے کہا کہ ’’ آپ سے بھی جولوگ واقف ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ سے بہتر شاعر اس وقت ہندوستان پاکستان میں موجود نہیں ہے ، لیکن آپ کا نام اتنا مشہور نہیں ہے ۔ آپ نے کہا بھی ہے :

    تم بتاتے تو سمجھتی اسے دنیا عرفان

    فائدہ عرض ہنر میں تھا ہنر میں کیا تھا ‘‘

    اس کے جواب میں عرفان صدیقی نے دو باتیں کہیں ۔ ایک تو یہ کہ ان کاکلام بہت کم تھا ، اور شہروں کے قائم ہونے میں کلام کے Volume کا بھی بہت ہاتھ ہوتا ہے ۔(لفظ Volume خود عرفان صدیقی نے اس گفتگو میں استعمال کیا تھا ) اس کے بعد عرفان صدیقی نے کہا کہ میری طبیعت P.R. (یہ لفظ بھی عرفان صدیقی ہی کا ہے ) کی طرف نہیں آتی ۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ میں نے کبھی اپنا کوئی حلقہ نہیں بنایا ، کسی کی خوشامد نہیں کی ۔

    یہ دونوں باتیں صحیح ہیں ۔ لیکن یہ بات پوری طرح درست نہیں کہ عرفان صدیقی کی شہرت بہت نہیں ہوئی ۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں ظفراقبال یا احمد مشتاق جیسی شہرت اس وقت حاصل نہ تھی جب یہ گفتگو ریکارڈ ہوئی تھی ۔اس وقت ان کے دو اہم مجموعے ’’ سات سمٰوات ‘‘ اور ’’ عشق نامہ ‘‘ شائع نہ ہوئے تھے ۔’’ ہوائے دشت ماریہ ‘‘ کے نام سے ان کے سلام بھی منظر عام پر نہ آئے تھے۔ میرا خیال ہے ۲۰۰۵ ء میں ، جب یہ گفتگو ’’ شب خون ‘‘ میں شائع ہوئی ، عرفان صدیقی بر صغیر کے بہت جانے پہچانے شاعر بن چکے تھے ۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اپنے عہد کے تمام مشہور شعرا میں عرفان صدیقی سب سے کم عمر تھے ، اور ان کی شاعر ی کا چوکھا رنگ ذرا دیر ہی میں کھلا ۔لیکن میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عرفان صدیقی کے بارے میں لکھنا بہت مشکل کام تھا اور اب بھی مشکل ہے ۔ان کے اشعار کی تہ داری، ان کی لفظیات کا داستانی لیکن گہرا داخلی رنگ ، ان کے تجربہء عشق اور تجربہء حیات کا دبدبہ اور طنطنہ ، یہ ایسی باتیں نہیں جن پر لفاظی اور انشا پردازی اور زور بیان کے ذریعہ قابو پایا جاسکے ۔ان کا کلام ایک طرف تو کیفیت اور تحیر پیدا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ ،بلکہ کبھی اس کے پہلے ، تفکر کی طرف مائل کرتا معلوم ہوتا ہے ۔ عرفان صدیقی کا جو شعر اوپر درج ہوا اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو ضرف غور کے بعد سمجھ میں آتی ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ ’’ عرض ہنر ‘‘ کی ترتیب اردو میں سب سے پہلے غالب نے استعمال کی ۔ پھر حسرت موہانی نے اسے شہرت دی ، حالانکہ حسر ت کا شعر بہت معمولی ہے ؂

    ہمارے شعر فقط دلگی کے ہیں اب اسد

    کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

    حسرت نغز گو ترا کوئی نہ قدرداں ملا

    اب یہ بتا کہ میں ترے عرض ہنر کو کیا کروں

    عرفان صدیقی نے ’’ فائدہ ‘‘ اور ’’ عرض ہنر ‘‘ کی لفظیات ، ظاہر ہے کہ غالب سے حاصل کی ہے ۔ ممکن ہے حسرت کا شعر بھی ان کے سامنے رہا ہو ۔ لیکن عرفان صدیقی نے بات کوق تہ دار بنادیا ہے ۔ غالب کے یہاں بھی تہیں ہیں ، لیکن ان کا تعلق ’’ فائدہء عرض ہنر ‘‘ سے نہیں ۔ عرفان صدیقی نے ’’ عرض ہنر ‘‘ کو ایک سطح پر انہیں معنی میں استعمال کیا ہے جو پہلے سے موجود تھے ، یعنی دستگار سخن ، دنیائے شعر کی وسعت۔ لیکن یہاں دوسرے معنی ’’ ہنر کو پیش کرنا ‘‘ بھی ہیں ۔ یعنی شعر کہہ کر ایک طرف کو ڈالتے رہنے سے کام نہیں چلتا ۔شعر کو سنانا ، پیش کرنا ، دنیا کے سامنے شعوری طور بے نقاب کرنا ضروری ہے ۔ غالب کے شعر میں المیہ بیان ہوا ہے کہ میں نے شعر تو خون تھوک کر کہے ، لیکن وہ دنیا کے سامنے سامان دل بستگی اور سستی دلگی کے ذرائع سے زیادہ کچھ نہ ٹھہرے ۔ حسرت موہانی نے بے صبری کرکے خود ہی اپنے کو ’’ نغز گو ‘‘ بتا دیا اور نغز گوئی کی ناقدری کا شکوہ کیا ۔ غالب کا شعر ، ظاہر ہے کہؓ را شعر ہے ۔ لیکن عرفان صدیقی نے اپنی بات الگ بنائی ۔اگر میں کوشش کرکے اپنا کلام دنیا کے سامنے پیش کرتا ، دنیا کو خود ہی بتاتا پھرتا کہ میں کتنا عمدہ شاعر ہوں ، تو شاید دنیا بھی مجھے کچھ سمجھتی ۔ ہنر تو بہرحال انسانی دنیا کے لئے بے فیض ہی شے ہے ۔ دنیا کو بتاؤ ، تب شاید وہ سمجھے گی کہ تم بھی شاعر ہو ۔اسی بات کو عرفان صدیقی نے اور بھی زیادہ قوت کے ساتھ یوں کہا ہے ؂

    ہم فقیروں کو فقط سچ بولنے کا حکم ہے

    عرض کرنا قیمت عرض ہنر کیا دیکھنا

    عرفان صدیقی کو اس بات سے بھی کچھ نقصان پہنچا کہ کچھ لوگوں نے انہیں افتخار عارف کے مقابلے میں قائم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ دونوں نے کربلا کے استعارے کو بہت خوبی سے برتا ہے ۔ کربلا اور شہادت امام سوم ؑ اور امام اولؑ کے مرتبہ ء اعلی کا احساس اور ان سے متعلق مضامین تو عرفان صدیقی کے شعور میں بچپن سے موجود تھے ۔ جیسا کہ انہوں نے کئی جگہ کہا تھا ، یہ عقیدت ان کے دل میں اولاً ان کی والدہ نے جاگزیں کرائی تھی ۔ لیکن معاملہ صرف کسی مضمون کو بیان کردینے کا نہیں ، بلکہ اس مضمون میں کوئی نیا پہلو ، کوئی نئی معنویت پیدا کرنا یا اسے کسی نئے اور درامائی پیکر کے ذریعہ ظاہر کرنا ، یہ اصل کام ہیں ۔

    کربلا اور اس کے متعلقات کو عرفان صدیقی نے اپنا مقصود نہیں بنایا بلکہ ان باتوں کو انہوں نے ذاتی اور کائناتی حقائق کے اظہار کا ذریعہ بنایا ۔ورنہ یوں دیکھئے تو موت ، خون ناحق ، اعلائے حق ، احتجاج ، یہ باتیں تو اردو غزل کا بنیادی سرمایہ ہین ۔ غزل کی کثیر المعنویت کا تقاضا ہی یہ ہے ۔ ورنہ میرؔ :

    وہ اس سے سرحرف تو ہو خواہ سر اڑ جائے

    ہم حلق بریدہ سے ہی تقریر کریں گے

    جیسے شعر کو محض کربلا سے متعلق کردینا شعر اور شعریت دونوں کا خون کردینا ہے ۔ عرفان صدیقی کے یہاں داستان ، سفر اور پردیس کے لہجے اور ر نگ اس طرح یکجا ہیں کہ ان کے شعر کا تجزیہ بیان کرنے سے بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شعر پڑھیں اور سرد ھنیں ؂

    صدائے شام سر آبجو کتنی دیر

    یہ بازگشت بھی اے دشت ہو ہے کتنی دیر

    مرے زوال کے ساتھی مرے ستارہء ہجر

    افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر

    پھر ایک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک

    یہ کاروبار کمان و گلو ہے کتنی دیر

    ان اشعار کو کربلا کے المیے کے آئینے میں دیکھنے میں کوئی ہرج نہیں ۔ ہرج انہیں محض کربلا تک محدود کردینے میں ہے ۔اور یہی اشعار کیا ، کسی بھی اچھے شعر کے معنی کو محدود کرنا اصول شعر فہمی کے خلاف ہے ۔پھر یہ بھی ہے کہ کسی شاعر کو بھرپور دیکھا جائے تو کچھ مختلف نتائج برآمد ہوں گے اور ادھر ادھر سے یا کسی ایک تناظر میں دیکھیں تو شاعر کے بہت سے محاسن اور کمالات ہم پر عیاں ہی نہ ہوں گے ۔ میں نے کئی دہائی پہلے لکھا تھا کہ آج کے لوگ جب تک کسی شاعر پر کوئی لیبل نہ لگالیں ، اسے کسی چوکھٹے میں بند کرکے نہ دیکھ لیں ، انہیں اطمینان نہیں ہوتا اور اگر شاعر عرفان صدیقی جیسا گونا گوں شاعر ہو تو ہم اس کا رروائی میں شاعر کے ساتھ اور بھی زیادتی تج مرتکب ہوتے ہیں ۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اچھے شاعر کی خوبی یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے کارنامے کو چند لفظوں میں بیان کرسکیں ۔ اچھے شاعر کی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ سے تقاضا کرئے کہ آپ اسے بھرپور پڑھیں ، اس کے نشیب و فراز سے گذریں ، اس کی گہرائیوں میں اتریں اور پھر دیکھیں کہ اس دریا میں کتنے اور کتنی طرح کے موتی ہیں ۔ میرانیس ہوں یا اقبال یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ ان کی خوبی کو چند لفظوں میں بیان کرسکیں ۔

    مثال کے طور پر عرفان صدیقی ہی کو لیجیے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آجکل کے خود غرض ، اپنی برائیوں میں منہمک ، غیر مستقل مزاج لوگوں کے زمانے میں عشق نام کی چیز ہندوستانی فلموں کے سوا کہیں اور بمشکل ہی نظر آتی ہے ۔ صرف یہی نہیں کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا بلکہ یہ بھی ہے کہ دنیا کو اپنی فکر اتنی زیادہ ہے کہ معشوق کی مزاج پرسی اور اس کے ناز اُٹھانے کے لئے اپنے من کو مارنے ، اپنی شخصیت کو دبا کر رکھنے اور اپنے وجود کو معشوق کے وجود کا تابع بنا کر رکھنے کا خیال ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے ۔لیکن اسی زمانے میں عرفان صدیقی جیسا شاعر بھی ہے جس کی تخلیقی دنیا پر ہر طرف عشق کی حکمرانی ہے۔ یہاں احتجاج بھی ہے اور فکر مندی بھی ، خوف بھی ہے اور یاس بھی ۔ لیکن شاعر کی تخیلاتی کار گذاری میں یہ سب عناصر الگ الگ ایک دوسرے کو کھینچتے اور عدم توازن نہیں پیدا کرئے ۔ اس دنیا میں جتنے وجود ہیں ، جتنی دنیائیں ہیں ، ان پر محبت کی ہلکی یا تیز بارش کا موسم ہمیشہ رہتا ہے ۔ لیکن بارش کے رنگ اور بارش لانے والی ہوا کے رخ بدلتے رہتے ہیں ؂

    سب دھوپ اتر گئی ٹوٹی ہوئی دیواروں سے

    مگر ایک کرن میرے خوابوں میں اسیر ہوئی

    اس شعر کی ہوا اور حرارت اور تب و تاب ویسی نہیں جیسی حسبِ ذیل شعر میں ہے ؂

    جنگلوں سے کون سا جھونکا لگالایا اسے

    دل کہ جگنو تھا چراغ انجمن لگنے لگا

    بظاہر دونوں شعروں کا مضمون ایک ہے : معشوق کی ایک جھلک ، ایک نگاہ دلنواز ، ہمارے لئے کافی ہے ۔ لیکن دراصل دونوں شعروں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ پہلے شعر میں معشوق کسی باعث مجبور ہو کر متکلم کے خوابوں کا مکین ہو کررہ گیا ۔ معشوق کا تصور دل میں اس درجہ منقش و محجر تھا گویا کوئی قیدی تھا جسے راہ فرار نہ تھی ۔ معشوق کا بس چلتا تو وہ عاشق کے خوابوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیتا ، لیکن ایسا ممکن نہ ہوا ۔ عرفان صدیقی نے اس شعر کو وقت کی علامت بتایا ہے ، ’’ ایک تو یہ ( وقت) ہے ، اور ایک وہ وقت ہے جس میں ہم سب گویا قائم ہیں ۔ وہ وقت جیسا پہلے تھا ، وہی آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا ۔‘‘ لیکن یہ مثالی وقت بھی دل کے خوابوں کا اسیر ہے کہ وہاں سے اسے راہ فرار نہیں ملتی ۔ لیکن دوسرے شعر میں خود معشوق کو اس کے دل کی ہوا برآ ورغبت اڑا لائی ہے ۔معشوق کے دل میں ایک لہر اٹھی کہ چلےئے ذرا اپنے عاشق کو دیکھ آےئے ۔ اور دل کو پہلے جگنو کہنا پھر معشوق کے پرتو کے طفیل اسے چراغ انجمن کہنا کمال بلاغت ہے ۔ چراغ انجمن سے مراد یہ ہوئی کہ جگنو تو باہر جھاڑیوں میں یا دشت میں ٹمٹماتا ہے ، لیکن چراغ محفل سب کی آنکھوں کا نور ہوتا ہے ۔ میرؔ کے بھی ایک شعر میں ہوا کی ترغیب سے معشوق گھر چھوڑ کر چمن میں آجاتا ہے۔ لیکن وہ کسی کے دل کو روشن نہیں کرتا سب کے دل توڑ دیتا ہے اور انہیں اسیر کر لیتا ہے ؂

    صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی

    رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

    میرؔ جیسی روانی عرفان صدیقی کے یہاں نہیں ہے ( شاید کسی کے بھی یہاں نہیں ) لیکن ڈرامائی کیفیت میرؔ جیسی ہے ۔ دو شعر اور دیکھئے ؂

    بس ایک عہد ہے بے برگ و بار شاخوں سے

    اگرچہ قافلہء رنگ و بو پکارتا ہے

    میں ہی کیوں حلقہء زنجیر تعلق میں اسیر

    تو ہر الزام تعارف سے بری آخر کیوں

    پہلے شعر میں بے برگ و بار شاخیں ، دل برباد اور عشق کی تاراجیوں کا استعارہ ہیں ۔دل کی دنیا کے باہر بہت کچھ میزان رنگ و بو ہے جس میں متکلم خود کو تول سکتا ہے ۔یہ میزان اسے پکار بھی رہی ہے کہ آؤ ، ہم تمہیں دیکھیں ، ہمارے ساتھ چلو ۔ ہم تمہارے لئے قافلہء حیات کا زاد راہ بھی ہیں اور تمہیں اپنی بربادیوں سے دور لے جانے کی سبیل بھی ۔لیکن تاراج اور سوختہ ساماں دل کے ساتھ جو عہد وفا تھا وہ ترغیبات سے زیادہ مضبوط ثابت ہوتا ہے ۔ دوسرے شعر میں ’’ حلقہء زنجیر تعلق ‘‘ کی خوبی ماوراے ثنا ہے اور اسلوب کا انشائیہ استفہامی انداز بھی بہت خوب ہے ۔ لیکن مضمون کا لطف ملاحظہ ہو کہ ٹھیک ہے ، میں ہر طرح تمہارا اسیرہوں اور چونکہ یہ اسیری میں نے خود اختیار کی ہے اس لئے مجرم بھی میں ہی ہوں ۔ لیکن کیا معشوق اس سارے کاروبار میں بالکل معصوم ہے ؟ اگر ہاں ،تو کیا معشوق نے مجھے کسی بھی چیز سے متعارف نہیں کیا ؟ راتوں کا جاگنا اور نالہ زنی اور تصور کیشی تو الگ ہے ، آخر تمہارا تعارف مجھ سے کیونکر ہوا؟ کیا تمہارے خورشید حسن کے فروغ نے میری آنکھیں چکا چوندھ نہیں کردی تھیں ؟ عرفان صدیقی نے ایک اور جگہ کہاہے ؂

    ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف

    مرے ہی لہجے میں وہ حیلہ جو پکارتا ہے

    عرفان صدیقی نے کئی بار ایسا بھی کیا ہے کہ ان کے یہاں ذاتی احتجاج اور خارجی دنیا کا احساس بیک وقت زندگی کے دو تجربات سے روشناس کراتا ہے ۔ذاتی احساس و احتجاج نے خود کلامی پیدا کی ہے اور خارجی دنیا کا احساس شعر کو سماج اور سیاست اور معاشرے کے دائرے میں آتا ہے ؂

    یوں ہمیں روز نئی دربدری بخشتے ہیں

    جیسے بیٹھے ہوں زمیں جیب میں ڈالے ہوئے لوگ

    ایک میں ہوں کہ اس آشوب فغاں میں چپ ہوں

    ساری دنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے

    شہا ملال نہ رکھ خاک اڑانے والوں سے

    کہ یہ گواہ ترے ملک و مال ہی کے تو ہیں

    شور کرنا ہمیں بے وجہ نہیں آگیا ہے

    کوئی خنجر رگ گردن کے قریں گیا ہے

    یہ سارا خارو خس موج بلا لے کر چلی جائے

    ہماری بستیوں سے اور کیا لے کر چلی جائے

    مجھے قبول نہیں ہے یہ عرض حال کی شرط

    کہ میں سخن بھی کروں اور مدعا بھی نہ آئے

    عرفان صدیقی کے شعر میں اسطور ، تاریخ ، ہند اسلامی تہذیب ، معاصر دنیا یہ سب موجود ہیں اور اس طرح کہ کسی ایک ہی شعر میں ہوں تو بھی ان کا انضمام بار نہیں گذرتا ۔مزونی کے ساتھ درو یشانہ وقار اور تمکنت بھی ہے ۔وصل کے وجد کے ساتھ عشق کی سرشاریوں میں معشوقوں جیسا ناز بھی ہے ۔اور یہ آخری صفت ایسی ہے جس میں کوئی ان کا مدمقابل نہیں ؂

    تو کیا بدن کا بھی صدقہ حرام ہے ہم پر

    یہاں بھی ترک طلب کا سوال آئے گا کیا

    دل پہ یہ مشق ستارہ نظری آخر کیوں

    پارہء سنگ کی آئینہ گری آخر کیوں

    مری عاشقی مری شاعری ہے سمندروں کی شناوری

    وہی ہم کنارا سے چاہنا وہی بے کراں اسے دیکھنا

    سو ہم نذر فراموشی یہ سب اشعار کردیں گے

    وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے

    قیامت استعارہ ہے اشارہ میرے قاتل کا

    کہ ہم ابروہی کیا سارا بدن تلوار کردیں گے

    ہم نے دیکھا ہی تھا دنیا کو ابھی اس کے بغیر

    لیجےئے بیچ میں پھر دیدہء تر آگئے ہیں

    عرفان صدیقی کی غزل کو ابھی اور کئی بلندیوں کو ہموار کرنا تھا لیکن موت نے مہلت نہ دی ۔ خدا اس کے بدلے میں انہیں گریق رحمت اور ان کے درجات بلند کرئے ۔ آمین

    **

    ( نوٹ : میں نے یہ مضمون ٹورانٹو کناڈا میں لکھا تھا ۔ میں جناب بیدار بخت کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے لئے عرفان صدیقی کا بہت سارا کلام اور اپنا کمپیوٹر بخوشی فراہم کیا جس باعث یہ مختصر تحریر وجود میں آسکی ۔)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY