Mahtab Haider Naqvi's Photo'

مہتاب حیدر نقوی

1955 | علی گڑہ, ہندوستان

غزل

اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

ہجر کی منزل ہمیں اب کے پسند آئی نہیں

مہتاب حیدر نقوی

اب رہے یا نہ رہے کوئی ملال_دنیا

مہتاب حیدر نقوی

اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

اسی درد_آشنا دل کی طرف_داری میں رہتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

اگر کوئی خلش_جاوداں سلامت ہے

مہتاب حیدر نقوی

اہل_دنیا دیکھتے ہیں کتنی حیرانی کے ساتھ

مہتاب حیدر نقوی

ایک پل میں دم_گفتار سے لب_تر ہو جائے

مہتاب حیدر نقوی

ایک طوفان کا سامان بنی ہے کوئی چیز

مہتاب حیدر نقوی

تیرا چہرہ نہ مرا حسن_نظر ہے سب کچھ

مہتاب حیدر نقوی

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

مہتاب حیدر نقوی

مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

کسی کے خواب سے باقی نہ بیداری سے قائم ہے

مہتاب حیدر نقوی

کسی کے گھر نہ ماہ و سال کے موسم میں رہتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

یوں ہی سر چڑھ کے ہر اک موج_بلا بولے_گی

مہتاب حیدر نقوی

یہ جہاں خوب ہے سب اس کے نظارے اچھے

مہتاب حیدر نقوی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI