Mahtab Haider Naqvi's Photo'

مہتاب حیدر نقوی

1955 | علی گڑہ, ہندوستان

نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو

سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو

مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

یہ شعر طبیعت کی روانی کے لیے ہیں

ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں

کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے