Shaz Tamkanat's Photo'

شاذ تمکنت

1933 - 1985 | حیدر آباد, ہندوستان

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

حیدرآباد کے ممتاز شاعر

2.7K
Favorite

باعتبار

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے

ان سے ملتے تھے تو سب کہتے تھے کیوں ملتے ہو

اب یہی لوگ نہ ملنے کا سبب پوچھتے ہیں

کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

لہو کا سلسلہ پیہم رہا ہے آنکھوں میں

زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے

سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے

کتاب حسن ہے تو مل کھلی کتاب کی طرح

یہی کتاب تو مر مر کے میں نے ازبر کی

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

بہت دنوں سے خوشی کو ترس رہا ہوں میں

ایک رات آپ نے امید پہ کیا رکھا ہے

آج تک ہم نے چراغوں کو جلا رکھا ہے

شب و روز جیسے ٹھہر گئے کوئی ناز ہے نہ نیاز ہے

ترے ہجر میں یہ پتا چلا مری عمر کتنی دراز ہے

اس کا ہونا بھی بھری بزم میں ہے وجہ سکوں

کچھ نہ بولے بھی تو وہ میرا طرف دار لگے

آگے آگے کوئی مشعل سی لیے چلتا تھا

ہائے کیا نام تھا اس شخص کا پوچھا بھی نہیں

سخن راز نشاط و غم کا پردہ ہو ہی جاتا ہے

غزل کہہ لیں تو جی کا بوجھ ہلکا ہو ہی جاتا ہے