Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Amjad Khan Tajwana's Photo'

امجد خان تجوانہ

پنجاب, پاکستان

امجد خان تجوانہ کے اشعار

باعتبار

بس کہیں محبت کا گھر ہو اور دسمبر ہو

دل میں پھر نہ کوئی بھی ڈر ہو اور دسمبر ہو

عشق دریا میں جب سے بہنے لگا

موج در موج شعر کہنے لگا

تیرے ہاتھوں ملے اگر مرشد

چائے پینا ثواب لگتا ہے

منہ کبھی ہم نے اپنوں سے موڑا نہیں

شہر میں بس کے بھی گاؤں چھوڑا نہیں

نیند کے گھر میں ہیں خواب آنے لگے

عشق ہے ناچتا آنکھ کے صحن میں

لوگ لوگوں سے دوستی کر کے

کتنا سستے میں بیچ دیتے ہیں

مسئلہ جو بھی ہو حل ہو جائے

تجھ کو سوچوں تو غزل ہو جائے

ایک دن میں کسی پر ہنسا تھا میاں

پھر کئی روز تک مجھ کو رونا پڑا

سرحدیں مجھ کو دیتیں اجازت اگر

پھر میں مکہ مدینہ کہاں چھوڑتا

ایک لمبی خامشی تھی چار سو

ایک دوجے کے تھے جب ہم روبرو

کسی نہ کسی ضابطے میں رہے ہیں

بچھڑ کر بھی ہم رابطے میں رہے ہیں

Recitation

بولیے