امجد خان تجوانہ کے اشعار
بس کہیں محبت کا گھر ہو اور دسمبر ہو
دل میں پھر نہ کوئی بھی ڈر ہو اور دسمبر ہو
عشق دریا میں جب سے بہنے لگا
موج در موج شعر کہنے لگا
منہ کبھی ہم نے اپنوں سے موڑا نہیں
شہر میں بس کے بھی گاؤں چھوڑا نہیں
نیند کے گھر میں ہیں خواب آنے لگے
عشق ہے ناچتا آنکھ کے صحن میں
لوگ لوگوں سے دوستی کر کے
کتنا سستے میں بیچ دیتے ہیں
مسئلہ جو بھی ہو حل ہو جائے
تجھ کو سوچوں تو غزل ہو جائے
ایک دن میں کسی پر ہنسا تھا میاں
پھر کئی روز تک مجھ کو رونا پڑا
سرحدیں مجھ کو دیتیں اجازت اگر
پھر میں مکہ مدینہ کہاں چھوڑتا
ایک لمبی خامشی تھی چار سو
ایک دوجے کے تھے جب ہم روبرو
کسی نہ کسی ضابطے میں رہے ہیں
بچھڑ کر بھی ہم رابطے میں رہے ہیں