Aziz Lakhnavi's Photo'

عزیز لکھنوی

1882 - 1935 | لکھنؤ, ہندوستان

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

عزیزلکھنوی اپنے عہد میں اردو فارسی کے چند بڑے عالموں میں تصور کئے جاتے تھے ۔ ان کا نام مرزا محمد ہادی تھا ، 14  مارچ  1882 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے اسلاف شیراز سے ہندوستان آئے تھے ، پہلے کشمیر میں سکونت اختیار کی بعد میں شاہان اودھ کے دور حکومت میں لکھنؤ منتقل ہوگئے ۔ عزیز کا خاندان علم وفضل کیلئے مشہور تھا ۔ عزیزنے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ، سات برس کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ۔ امین آباد ہائی اسکول میں اردو و فارسی پڑھائی بعد میں وہ علی محمد خاں مہاراجہ محمودآباد کے بچوں کے اتالیق مامور ہوئے اور ساری زندگی اسی سے وابستہ رہے ۔

عزیز نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ۔ غزل کے علاوہ نظم اور قصیدہ ان کے تخلیقی اظہار کی اہم صورتیں ہیں ۔ قصیدے میں وہ ایک امتیازی حثیت کے مالک ہیں ۔ شکوہ الفاظ ، علوتخیل ان کے قصائد کی خصوصیات ہیں ۔ شاعری میں صفی لکھنوی سے شاگردی کا شرف حاصل رہا ۔

عزیز لکھنوی کا یہ شعر اتنا مشہور ہوا کہ ایک طرح سے یہ ان کی پہچان بن گیا ۔

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا