Mirza Hadi Ruswa's Photo'

مرزا ہادی رسوا

1858 - 1931 | لکھنؤ, ہندوستان

321
Favorite

باعتبار

دلی چھٹی تھی پہلے اب لکھنؤ بھی چھوڑیں

دو شہر تھے یہ اپنے دونوں تباہ نکلے

لب پہ کچھ بات آئی جاتی ہے

خامشی مسکرائی جاتی ہے

بعد توبہ کے بھی ہے دل میں یہ حسرت باقی

دے کے قسمیں کوئی اک جام پلا دے ہم کو

دیکھا ہے مجھے اپنی خوشامد میں جو مصروف

اس بت کو یہ دھوکا ہے کہ اسلام یہی ہے

کیا کہوں تجھ سے محبت وہ بلا ہے ہمدم

مجھ کو عبرت نہ ہوئی غیر کے مر جانے سے

ہے یقیں وہ نہ آئیں گے پھر بھی

کب نگہ سوئے در نہیں ہوتی

دل لگانے کو نہ سمجھو دل لگی

دشمنوں کی جان پر بن جائے گی

مرنے کے دن قریب ہیں شاید کہ اے حیات

تجھ سے طبیعت اپنی بہت سیر ہو گئی

انہیں کا نام لے لے کر کوئی فرقت میں مرتا ہے

کبھی وہ بھی تو سن لیں گے جو بدنامی سے ڈرتے ہیں

ٹلنا تھا میرے پاس سے اے کاہلی تجھے

کمبخت تو تو آ کے یہیں ڈھیر ہو گئی

ہم کو بھی کیا کیا مزے کی داستانیں یاد تھیں

لیکن اب تمہید ذکر درد و ماتم ہو گئیں

ہم نشیں دیکھی نحوست داستان ہجر کی

صحبتیں جمنے نہ پائی تھیں کہ برہم ہو گئیں

بت پرستی میں نہ ہوگا کوئی مجھ سا بدنام

جھینپتا ہوں جو کہیں ذکر خدا ہوتا ہے

دبکی ہوئی تھی گربہ صفت خواہش گناہ

چمکارنے سے پھول گئی شعر ہو گئی

ضرب المثل ہے ہوتے ہیں معشوق بے وفا

یہ کچھ تمہارا ذکر نہیں ہے خفا نہ ہو

ہنس کے کہتا ہے مصور سے وہ غارت گر ہوش

جیسی صورت ہے مری ویسی ہی تصویر بھی ہو

کس قدر معتقد حسن مکافات ہوں میں

دل میں خوش ہوتا ہوں جب رنج سوا ہوتا ہے

چند باتیں وہ جو ہم رندوں میں تھیں ضرب المثل

اب سنا مرزا کہ درد اہل عرفاں ہو گئیں