سپاہی کی کہانی

نامعلوم

سپاہی کی کہانی

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    دلچسپ معلومات

    (پرانی لوک کہانی)

    ایک سپاہی تھے۔ وہ کہیں سے چلے آتے تھے۔ رستے میں ایک آواز آئی کہ

    ’’اے میاں گھوڑے سوا! لمبی چوٹی برخوردار۔‘‘

    ایک سندیسہ لیتے جائیو۔

    اس نے دیکھا۔ تو ادھر ادھر کوئی نظر نہ آیا۔ پھر اس نے گھوڑا ہانکا تو پھر اس کو یہی آواز آئی کہ

    ’’اے میاں گھوڑے سوار! لمبی چوٹی برخوردار‘‘

    ایک سندیسہ لیتے جائیو

    اب جو دیکھا تو ایک کھیت کی مینڈ پر ایک چوہیا پھدک رہی ہے۔ اس نے کہا کہو بی چوہیا کیا کہتی ہو؟ اس نے کہا

    ’’بھینا چاک سری سے کہیو۔ بھینا کھیت سری نے کہا ہے بھینا راہ سری تو مرگئی۔ کہ ہے ہے بھینا گھورے تلے آئیں۔ ہے ہے بھینا چھکڑے تلے آئیں۔ ہے ہے بھینا اونٹوں تلے آئیں‘‘۔

    یہ کہہ کر چوہیا اپنے کھیت میں اتر گئی۔ سپاہی اپنے گھر چلا آیا۔

    جب سپاہی کھانے پینے سے فارغ ہوکر اپنے بال بچوں میں بیٹھا۔ تو بیوی سے کہا کہ بیوی ایک ہم نے بڑا اچنبا دیکھا۔ بیوی نے پوچھا میاں کیا دیکھا؟ کہا بیوی میں چلا آتا تھا۔ رستے میں آواز آئی کہ

    ’’اے میاں گھوڑے سوار! لمبی چوٹی برخوردار۔‘‘

    ایک سندیسہ لیتے جائیو۔

    میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ میں نے پھر گھوڑا ہانکا۔ پھر آواز آئی۔ کہ

    اے میاں گھوڑے سوار! لمبی چوٹی برخوردار

    ایک سندیسہ لیتے جائیو۔

    دیکھتا کیا ہوں کہ ایک چوہیا کھیت کی مینڈیر پر پھدک رہی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا بی چوہیا کیا کہتی ہو؟اس نےکہا

    کہا

    ’’بھینا چاک سری سے کہیو۔ بھینا کھیت سری نے کہا ہے۔ بھینا راہ سری تو مر گئی۔‘‘

    سپاہی یہ کہہ چکا تھا کہ اتنے میں ایک چوہیا چکی کے گرنڈ کے نیچے سے چکی کا جھرنا سر پر ڈال نکل آئی۔ اور لگی رونے پیٹنے کہ’’ ہے ہے بھینا گھوڑے تلے آئیں۔ ہے ہے بھینا چھکڑے تلے آئیں ہے ہے بھینا اونٹوں تلے آئیں‘‘۔

    رو پیٹ کر وہ بی چوہیا پھر چکی تلے گھس گئیں۔ سپاہی نے بیوی سے کہا۔ جیسا یہ تماشا تم نے اب دیکھا۔ ویسا ہی تماشا میں نے تب دیکھا تھا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY