ایک تھا بادشاہ

حفیظ جالندھری

ایک تھا بادشاہ

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    ابا جان بھی بچوں کی طرح کہانیاں سن کر ہنس رہے تھے کہ کس طرح ہم بھی ایسے ہی ننھے بچے بن جائیں۔ نہ رہ سکے بول ہی اٹھے، بھئی ہمیں بھی ایک کہانی یاد ہے کہو تو سناؤں؟‘‘

    آہا جی آہا ۔ ابا جان کو بھی کہانی یاد ہے ابا جان بھی کہانی سنائیں گے۔ سنائیے ابا جان۔ ابا جان سنائیے نا؟‘‘

    ابا جان نے کہانی سنانی شروع کی،

    کسی شہر میں ایک تھا بادشاہ

    مگر بادشاہ تھا بہت ہی غریب

    ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

    نہ آتا تھا کوئی اس کے قریب

    بادشاہ اور غریب سب بچے سوچنے لگے کہ بادشاہ غریب بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ شاید ہوتا ہو اگلے زمانے میں ابا سنا رہے تھے۔

    کئے ایک دن جمع اس نے فقیر

    کھلائی انہیں سونے چاندی کے کھیر

    فقیروں کو پھر جیب میں رکھ لیا

    امیروں وزیروں سے کہنے لگا

    کہ آؤ چلیں آج کھیلیں شکار

    قلم اور کاغذ کی دیکھیں بہار

    مگر ہے سمندر کا میدان تنگ

    کرے کس طرح کوئی مچھر سے جنگ

    تو چڑیا یہ بولی کہ اے بادشاہ

    کروں گی میں اپنے چڑے کا بیاہ

    مگر مچھ کو گھر میں بلاؤں گی میں

    سمندر میں ہرگز نہ جاؤں گی میں

    ابا جان نے ابھی اتنی ہی کہانی سنائی تھی کہ سب حیران ہو ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ بھائی جان سے رہا نہ گیا کہنے لگے’’یہ تو عجیب بے معنیٰ کہانی ہے جس کا سر نہ پیر‘‘

    ابا جان بولے’’کیوں بھئی کون سی مشکل بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہیں آئی‘‘

    منجھلے بھائی نے کہا’’سمجھ میں آتی ہے پتہ نہیں چلتا‘‘

    یہ سن کر سب ہنس پڑے ’’خوب بھئی خوب۔ سمجھ میں آتی ہے پتہ نہیں چلتا‘‘ آپا نے کہا۔

    ’’ابا جان۔ بادشاہ غریب تھا تو اس نے فقیروں کو بلا کر سونے چاندی کی کھیر کیسے کھلائی اور پھر ان کو جیب میں رکھ لیا مزا یہ کہ بادشاہ کے پاس کوئی آتا بھی نہیں تھا۔ یہ امیر وزیر کہاں سے آگئے۔ شکار میں قلم اور کاغذ کی بہار کا کیا مطلب ہے اور پھر لطف یہ کہ سمندر کا میدان اور ایسا تنگ کہ وہاں مچھرے سے جنگ نہیں ہوسکتی۔ پھر بیچ میں یہ بی چڑیا کہاں سے کود پڑیں جو اپنے چڈے کا بیاہ کرنے والی ہیں۔ مگر مچھ کو اپنے گھونسلے میں بلاتی ہیں اور سمندر میں نہیں جانا چاہتیں۔‘‘

    ننھی بولی ’’توبہ توبہ آپا جان نے تو بکھیڑا نکال دیا۔ ایسی اچھی کہانی ابا جان کہہ رہے ہیں۔ میری سمجھ میں تو سب کچھ آتا ہے۔ سنائیے ابا جان۔ پھر کیا ہوا؟‘‘

    ابا جان نے کہا’’بس ننھی میری باتوں کو سمجھتی ہے۔۔‘‘

    ہوا یہ کہ :

    سنی بات چڑیا کی گھوڑے نے جب

    وہ بولا یہ کیا کر رہی ہے غضب

    مرے پاس دال اور آٹا نہیں

    تمہیں دال آٹے کا گھاٹا نہیں

    یہ سنتے ہی کرسی سے بنیا اٹھا

    کیا وار اٹھتے ہی تلوار کا

    وہیں ایک مکھی کا پرکٹ گیا

    جلا ہے کا ہاتھی پرے ہٹ گیا

    یہاں سب بچے اتنا ہنسے کہ ہنسی بند ہونے میں نہ آتی تھی۔ لیکن بھائی جان نے پھر اعتراض کیا۔’’یہ کہانی تو کچھ اول جلول سی ہے‘‘

    ’’بھئی اب تو کچھ مزا آنے لگا ہے‘‘ منجھلے بھائی نے کہا۔

    ’’خاک مزا آرہا ہے‘‘ ننھی نے کہا ’’تم تو سب کہانی کو بیچ میں کاٹ دیتے ہو۔ ہاں ابا جان جلاہے کا ہاتھی ڈر کر پرے ہٹ گیا ہوگا تو پھر کیا ہوا؟‘‘

    ابا نے کہا ’’ننھی اب بڑا تماشا ہوا کہ :

    مچایا جو گیہوں کے انڈوں نے شور

    ’’کس کے انڈوں نے؟ گیہوں کے تو کیا گیہوں کے بھی انڈے ہوتے ہیں؟‘‘

    ’’بھئی مجھے کیا معلوم .. کہانی بنانے والوں نے یہی لکھا ہے؟‘‘

    ’’یہ کہانی کس نے بنائی ہے‘‘

    ’’حفیظ صاحب نے‘‘

    ’’ابا اب میں سمجھا آگے سنائیے ابا جان آگے بڑھے۔

    مچایا جو گیہوں کے انڈوں نے شور

    لگا ناچنے سانپ کی دم پہ مور

    کھڑا تھا وہیں پاس ہی ایک شیر

    بہت سارے تھے اس کی جھولی میں بیر

    کریلا بجانے لگا اٹھ کے بین

    لئے شیر سے بیر چوہیا نے چھین

    چوہیا نے شیر سے بیر چھین لئے۔ جی ہاں بڑی زبردست چوہیا تھی نا۔ اب بچوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ ابا جان ہماری سمجھ آزمانے کے لئے کہانی سنا رہے ہیں۔

    ’’اور تو یہ کریلے نے بین اچھی بجائی‘‘ امی جان ہنستے ہوئی بولیں۔ ننھی بہت خفا ہو رہی تھی سلسلہ ٹوٹتا تھا تو اس کو برا معلوم ہوتا تھا ۔ ابا جی کہیے کہیے آگے کہیے آگے کہیے ابا جان.....

    ابا جان نے کہا ’’بیٹی میں تو کہتا ہوں، یہ لوگ کہنے نہیں دیتے

    ہاں کیا کہہ رہا تھا۔

    لئے شیر سے بیر چوہیا نے چھین

    یہ دیکھا تو پھر بادشاہ نے کہا

    اری پیاری چڑیا ادھر کو تو آ

    وہ آئی تو مونچھوں سے پکڑا اسے

    ہوا کی کمندوں میں جکڑا اسے

    بڑے بھائی جان نے قہقہہ مارا ’’ہہ ہہ ہا ہا لیجئے بادشاہ پھر آگیا اور چڑیا آگئی۔ چڑیا بھی مونچھوں والی‘‘ منجھلے بھائی بولے’’ابا جی یہ ہوا کہ کمندیں کیا ہوتی ہیں‘‘ ابا جان نے کہا‘‘ بیٹے کتابوں میں اسی طرح لکھا ہے ’’کمند ہوا‘‘ چچا سعدی لکھ گئے ہیں‘‘

    آپا نے پوچھا ’’ابا جی یہ سعدی کے نام کے ساتھ چچا کیوں لگا دیتے ہیں‘‘

    مگر ننھی بہت بگڑ گئی تھی۔ اس نے جواب کا وقت نہ دیا اور منہ بسورنے لگی اوں اوں کہانی ختم کیجئے واہ ساری کہانی خراب کردی ابا جان نے اس طرح کہانی ختم کی۔

    غرض بادشاہ لاؤ لشکر کے ساتھ

    چلا سیر کو ایک جھینگر کے ساتھ

    مگر راہ میں چیونٹیاں آگئیں

    چنے جس قدر تھے وہ سب کھا گئیں

    بڑی بھاری اب تو لڑائی ہوئی

    لڑائی میں گھر کی صفائی ہوئی

    اکیلا وہاں رہ گیا بادشاہ

    ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY