شریر ہوا

صاحب علی

شریر ہوا

صاحب علی

MORE BYصاحب علی

    دوپہر کی دھوپ کم ہوگئی تھی۔

    ایک سفید بادل آسمان میں مغرب کی سمت آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ شریر ہوا اس خیال میں ادھر ادھر گھوم رہی تھی کہ کسے چھیڑا جائے۔

    بادل کو دیکھ کر اس نے کہا ’’کیوں بھئی کہاں جارہے ہو؟ رکو! کیوں نہ ہم ساتھ میں کھیلیں؟‘‘

    بادل نے کہا ’’نہیں بابا، میرے پاس ابھی وقت نہیں ہے۔ سورج مہاراج کے پاس جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ روز شام رنگ برنگے جبے پہن کر مہاراج کے سامنے ہمیں سلامی دینی ہوتی ہے۔‘‘

    ہوا نے کہا’’اگر ایک دن تم نہیں گئے تو مہاراج کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اگر تم میری بات نہیں مانوگے تو میں تمہیں توڑ مروڑ دوں گی۔‘‘

    بادل نے کہا’’ارے جاؤ! تم کیا مجھے توڑو مروڑوگی، یہ دیکھو میں ابھی پرندے کا روپ دھار کر دور اڑ جاتا ہوں۔‘‘

    بادل بالکل سفید پروں کا خوبصورت پرندہ بن گیا اور اڑنے لگا۔

    ’’پرندہ بن کر تم میرے ہاتھوں سے بچ کر نکلنے والے نہیں ہو‘‘ ہوا نے کہا۔ ’’میں اپنی سنسناہٹ سے تمہارے پروں کو دوراڑادوں گی۔‘‘

    ’’تب میں جہاز بن جاؤں گا اور تیزی سے بہتا چلا جاؤں گا۔‘‘ ایسا کہہ کر بادل نے جہاز کا روپ دھار لیا۔ اس کے سفید بادبان شان سے پھڑکنے لگے۔ نیلے آسمان میں سفر کرتے ہوئے وہ اب بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔

    ’’تم جہاز ہوجاؤگے تب بھی میری گرفت سے نہیں چھوٹو گے۔ میں تمہارے بادبانی کھمبے کو توڑ دوں گی اور پردے پھاڑ دوں گی۔‘‘

    بادل نے کہا ’’تب تو میں خوب موٹا تازہ ہاتھی بن جاؤں گا۔ پھر دیکھتا ہوں تم میرے پاس کیسے آتی ہو؟‘‘

    اچانک وہ اِندر کے ایراوت(ہاتھی) کی طرح سفید اور خوب بڑا دکھائی دینے لگا۔ لیکن ہوا بادل سے کہاں ڈرنے والی تھی۔ اس نے کہا ’’رکو! میں شیر کی طرح تم پر چھلانگ لگاتی ہوں اور تمہارا سر ہی توڑ دیتی ہوں۔‘‘

    ’’اچھی زبردستی ہے تمہاری!‘‘ بادل نے کہا ’’رکو! تم مجھے پریشان کر رہی ہو، اب میں تمہیں اچھا مزا چکھاتا ہوں۔‘‘

    پھر بادل نے ایک بھیانک راکشش کا روپ دھار لیا۔ اس کا منہ بڑا ہی خوفناک دکھائی دے رہا تھا اور دانت تلواروں کی طرح چمک رہے تھے۔ منہ سے بڑی پھنکاریں مارتے ہوئے وہ مغرب کی سمت دوڑنے لگا۔

    ’’ایسے کپاس کے راکشش سے میں تھوڑے ہی ڈرنے والی ہوں‘‘ ہوا نے زور سے ہنس کر کہا اور اس کا پیچھا کرنے لگی۔

    سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ بادل ہانپتا ہوا اس کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ سورج مہاراج نے کہا۔’’کیوں بھئی آج بھاگتے ہوئے کیوں آرہے ہو؟ اور تمہارا منہ ایسا لال کیوں ہوگیا ہے؟‘‘

    سانس سنبھالتے ہوئے بادل نے کہا’’مہاراج، وہ بدمعاش ہوا کب سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ اس نے مجھے ستارکھا ہے۔‘‘ بولتے بولتے شرم سے بادل کا چہرہ مزید سرخ ہوگیا۔

    سورج نے غصے سے ہوا سے کہا’’کیوں بدمعاش! میرے بادل کو تم کیوں ستارہی ہو؟ چلو نکلو یہاں سے جاؤ۔ اب ہمارے سونے کا وقت ہوگیا ہے خبردار جو آئندہ اسے ستایا۔‘‘

    ’’بادل کی میں نے کیسی فضیحت کی‘‘ ہوا بد بداتے ہوئے بولی اور زور زور سے ہنستے ہوئے بھاگ گئی۔ دن بھر شرارت کرتے ہوئے وہ اتنی تھک گئی تھی کہ سورج غروب ہونے پر وہ کہیں جاکر آرام کرنے لگی۔

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY