کلاسیکی شاعر

سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام

1685 -1733 دلی

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

1812 -1887

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

1728 -1806 دلی

مغل بادشاہ جنہوں نے لال قلعہ اور اپنے دربار میں اردو شاعری کا سلسلہ شروع کیا

1634 -1689

قطب شاہی حکومت کا آخری بادشاہ

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے کلاسیکی مزاج کے شاعر، اپنی رباعیوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

1914

حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

1725/6 -1772 دلی

۱۸ ویں صدی کے ممتاز شاعروں میں شامل ، میر تقی میر کے معاصر

1772 -1838 لکھنؤ

لکھنو کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر,مرزا غالب کے ہم عصر

1815 -1858 لکھنؤ

اپنے ناٹک ’اندرسبھا‘ کے لیے مشہور، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر

1253 -1325 دلی

اردو/ ہندوی کے پہلے شاعر، حضرت نظام الدین اولیا کے شاگرد اور ماہر موسیقی ، اپنی ’ پہیلیوں‘ کے لئے مشہور جو ہندوستانی لوک ادب کا حصہ ہیں، طبلہ اور ستار جیسے اہم ساز ایجاد کئے۔ ’ زحال مسکیں مکن تغافل‘ جیسی غزل لکھی جسے اردو/ ہندوی شاعری کا نقش اول کہا جاتا ہے

1829 -1900 حیدر آباد

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

1752 -1817 دلی

لکھنؤ کے سب سے گرم مزاج شاعر ، میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور ، انہوں نے ریختی میں بھی شعر کہے اور نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ لکھی

1727 -1755 دلی

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

1847 -1885 دلی

مابعد کلاسکی شاعر،ذوق اور غالب کے شاگرد،اپنے ضرب المثل اشعار کے لیے مشہور

1820 -1890 دلی

استاد شاعر، مرزا غالب کے شاگردِ خاص

1884 -1936

دلی کی شعری روایت کے متاخرین شاعروں میں شامل۔ اپنے ڈرامے ’کرشن اوتار‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

ممتاز ادبی شخصیت ،شاعر،نثار،دکن اور دلی کی تاریخ پر اپنی یادگار کتابوں کے لیے مشہور

1850 -1885 بنارس

ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، کلاسکی طرز میں اپنی اردو غزل گوئی کے لیے مشہور

1775 -1862 دلی

آخری مغل بادشاہ ۔ غالب اور ذوق کے ہم عصر

پارسی مذہبی عالم ،اردو کی ادبی روایات سے آشنا ہو کر اردو اور فارسی میں شاعری کی

1727 -1798 دلی

ممتاز کلاسیکی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر

1857 -1912

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

1811 -1845 لکھنؤ

انیسویں صدی میں لکھنؤ کے ممتاز ترین شاعروں میں شامل، مشہور مثنوی گلزارِ نسیم کے خالق

1715 -1749 دلی

شاعری کے علاوہ اپنی خوش شکلی کے لئے بھی مشہور ہیں۔ کم عمری میں وفات پائی۔

1748 -1809 لکھنؤ

اپنی شاعری میں محبوب کے ساتھ معاملہ بندی کےمضمون کے لیے مشہور،نوجوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے

1734 -1792 لکھنؤ

میرتقی میر کے ہمعصر،اپنی عشقیہ شاعری میں معاملہ بندی کے مضمون کے لیے مشہور

1737 -1801

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر، دلی اسکول کے طرز میں شاعری کے لیے مشہور

1815 -1879

مرزا غالب کے ہمعصر اور دوست،ہائی کورٹ کے وکیل اور آنریری مجسٹریٹ

1727 -1795 پٹنہ

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر

1778 -1847 لکھنؤ

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

1679 -1756 دلی

ماہر لسانیات،میر تقی میر اور میر درد کے استاد

1721 -1785 دلی

صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

1831 -1905 دلی

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور