Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mushtaq Ahmed Wani's Photo'

مشتاق احمد وانی

1960 | سری نگر, انڈیا

افسانہ نگار، محقق اور نقاد

افسانہ نگار، محقق اور نقاد

مشتاق احمد وانی کا تعارف

تخلص : 'مشتاق احمد وانی'

اصلی نام : مشتاق احمد وانی

پیدائش : 03 Mar 1960 | دوسرا, جموں و کشمیر

LCCN :no2001054676

شناخت: افسانہ نگار، محقق اور نقاد

مشتاق احمد وانی 3 مارچ 1960ء کو ضلع ڈوڈہ (جموں و کشمیر) کے گاؤں بہوتہ، علاقہ مرمت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سینٹرل اسکول بہوتہ سے حاصل کی۔ 1980ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول گوہا (مرمت) سے میٹرک، 1985ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج بھدرواہ سے بی اے، 1988ء میں جموں یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ بعد ازاں 1999ء میں پی ایچ ڈی، 2003ء میں بی ایڈ اور 2012ء میں روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے ڈی لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مشتاق احمد وانی کا شمار جموں و کشمیر کے معروف اردو ادیبوں، محققین اور نقادوں میں ہوتا ہے۔ وہ اردو ٹیچرز گلڈ جموں و کشمیر کی سرگرم شخصیت ہیں اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں رہے ہیں۔ افسانہ نگاری، تحقیق اور تنقید ان کے خصوصی میدان ہیں۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1989ء میں افسانہ ’’تڑپتے پنچھی‘‘ سے ہوا۔

انہوں نے افسانے، تحقیق اور تنقید کے میدان میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’ہزاروں غم‘‘، ’’میٹھا زہر‘‘، ’’اندر کی باتیں‘‘، ’’قبر میں زندہ آدمی‘‘ اور ’’کیا حال ہے جاناں‘‘ شامل ہیں۔ تحقیق و تنقید کے شعبے میں ’’تقسیم کے بعد اردو ناول میں تہذیبی بحران‘‘، ’’آئینہ در آئینہ‘‘، ’’اعتبار و معیار‘‘، ’’اردو ادب میں تانیثیت‘‘، ’’شعور و بصیرت‘‘، ’’افہام و تفہیم: زبان و ادب‘‘، ’’تناظر و فکر‘‘، ’’نئی تنقیدی معنویت‘‘، ’’زبان و بیان‘‘، ’’کہکشاںِ خیال‘‘ اور ’’تنقیدی فکر و فن‘‘ جیسی کتابیں ان کی علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔

Recitation

بولیے