چمن آہوجہ (10)

1933   |   چندی گڑھ

ڈاکٹر چمن آہوجہ کا جنم ۱۹۳۳ میں ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع وہوا نامی قصبہ میں ہوا، ابتدائی تعلیم  وہاں حاصل کی۔ پاکستان بننے پر ہجرت کے بعد سنگرور سے میٹرک (۱۹۴۹) و  بی اے  (۱۹۵۳)  اور پٹیالہ سے ایم اے  (۱۹۵۵) کیا ۔ ۱۹۷۲ میں پنجاب یونیورسٹی ، چنڈی گڑھ  سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

دس سال پنجاب کے گورنمنٹ کالجوں میں  پڑھانے کے بعد ۱۹۶۶   سے  ۱۹۹۶   تک  پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ  میں ڈیپارٹمنٹ آف انگلش میں مقیم رہے اور کچھ عرصہ شعبہ کے صدر بھی رہے۔چونکہ ڈاکٹر آہوجہ کا شوق ڈرامائی ادب  میں تھا،  ڈرامہ پڑھا، ڈرامہ پڑھایا ، ڈرامہ پہ  پی ایچ ڈی کی،  ڈرامہ پر ریسرچ کرتے رہے اور تنقیدی کتابیں لکھیں۔ ۱۳ سال ٹریبیون  کے ڈرامہ کرٹک رہے۔ اور  ٹریبیون ، ٹائیمز آف انڈیا ،  ہندو،  ہندوستان  ٹائیمز، سنڈے آبزرور، ینوز ٹائیم  جیسے  اخباروں میںاُن کے  تقریباً ایک ہزار ریویو، انٹرویو، آرٹیکل وغیرہ  چھپے۔یونیورسٹی سے سبک دوش ہونے کے بعد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن  سے تھیئٹر پر ایک میجر ریسرچ پراجیکٹ ملا جس کے پرنسپل اِنو یسٹی گیٹر کے طور پر وہ تقریباً  پورےہندوستان میں گھومےاور لگ بھگ ۵۰۰  ناموررنگ کرمیوں کو انٹرویو کیا۔ اِن۴۵۰ گھنٹوں کے  ٹیپ ریکارڈ کئے  انٹرویوز کا ڈِجیٹل ورشن  تریمورتی آرکائیوز ، دہلی، میں محققین  کے لئے موجود ہے ۔ڈاکٹر آہوجہ نے جگہ جگہ جا کر جو ریسرچ مسالہ اکٹھا کیا ، اُسے گورنمنٹ آف انڈیا کے کلچرڈیپارٹمنٹ سے  ملی سینیئر فیلوشپ  اور نیشنل سکول آف ڈرامہ  سےملی گرانٹ کی مدد سے دو ضخیم کتا بوں میں پیش کیا۔  تھیئٹر کے تئیں اِن خدمات کے لئےراشٹریہ سنگیت ناٹک اکادمی، دہلی،  نے ڈاکٹر آہوجہ کو ۲۰۱۶ میںلائیف ٹائیم اچیومنٹ نیشنل ایوارڈ سے نوازا۔ڈاکٹر آہوجہ کو  اُردوشاعری کا شوق تو بچپن سے تھا  لیکن انگریزی میں درس ،تدریس،  ریسرچ اور تھیئٹر میں اتنےمصروف  رہے کہ۵۰ سال اردو ادب سے کٹے رہے  لیکن  ۷۵ سال کی عمرمیں یکایک  انگریزی سے اردو میں،  تھیئٹر سے شاعری میں ، اور تنقید سے تخلیق میں لو ٹ آئے اور پچھلے دس سالوں سے اُردو شاعری کی تخلیقی خدمت کر رہے ہیں!

چمن زار  کے بارہ  میں معروف نقاد فاروق ارگلی صاحب کا کہنا ہے  ‘‘جنااب چمن آہوجہ کی شاعری لسانی عروضی اور فنی روایات سے زیادہ ایک جہاندیدہ اور صاحبِ  بصیرت انسان کے جذبات، مشاہدات اور تجربات کا آئینہ ہے۔ یہ شاعر ی   ‘  چمن زارِ’  حیات سے چُنے ہوئے کچھ سدا بہار پھولوں کا ایسا گُلدستہ  ہے جسکی خوشبو عرصہ تک ہر حقیقت پسند قاری کے ذہن کو مہکاتی رہے گی’’۔برگد نامہ ڈاکٹر آہوجہ کا  اپنے ہم قلب، ہم زبان، ہم عمر بزرگوں کو پیش کیا گیا  نذرانہ ہے جو اُن ہی کے روز مرہ کے مشاغل،  تجربات، تفکرات کی ترجمانی کرتا ہے۔مثلاً    بُڑھاپے کے بدلتے مُوڈ، جذبات، خیالات، دردو فغاں، شکوے،  بیماریاں، مالی اور خانی الجھنیں، سماجی اور تہذیبی ماحول سے بد ظنی، ماضی کی یادیں اور فکرِفردا، مسائل ِ  حیات و قضا، موت کا انتظار ، خوفِ عاقبت وغیرہ  ۔۔اور ساتھ ہی ساتھ پیری کی رنگینیاں، فضائل، چُٹکیاں چُسکیاں وغیرہ  ۔۔  اس ضمن میں جناب ارگلی  صاحب  فرماتے ہیں: ‘ یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اِس نازک موضوع پر  ایسی کاوش دنیا کی کسی زبان میں آج تک پیش نہیں کی گئی۔’’۔محفلِ افکار  کے بارہ میں پروفیسر مولا بخش صاحب کا تاثر:‘‘ محفل ِافکار  کے خالق چمن لال آہوجہ کوئی سوچنے والا ایسا ذہن معلوم ہوتا ہے جس نے  عمر کے آخری پڑاؤ میں زندگی کے پیچ و خم میں معصومیانہ روش کے ساتھ غور کیا ہے اور اُس کے افکار نے شاعری کی شکل اختیار کر لی ہے۔’’اِقرار گر نہیں ہے تو اِنکار بھی نہیں۔ اس مجموعہ میں اقرار اور انکار عشقِ مجازی سے منسوب نہیں  ہیں ۔ شاعر کا اشارہ اُس کی  اپنی ذہنی کیفیت کی طرف ہے جب وہ شک پرستی کے جھولے پر گنگناتے ہوئے کبھی حمدیہ گیت گاتا ہے تو کبھی باغی سروں میں اللہ میاں کے نظام کو للکارتا ہے اور اُس کی ہستی تک سے انکار کر دیتا ہے۔ اِس مجموعہء کلام میں گُستاخیاں اور چسکیا ں ضرور ہیں ، لیکن آداب کے گھیرے میں۔۔۔پروفیسر گوپی چند نارنگ صاحب کی فرماتے ہیں‘‘ چمن آہوجہ صاحب ایک کہنہ مشق اور کار آزمودہ شاعر ہیں ۔  اُن کی متعدد کتابیں اِس سے پہلے بھی شائع  ہو کر داد موصول کر چکی ہیں۔ مجھے یقین ہے  اِس کتاب کی بھی قدر افزائی کی جائیگی۔  وہ بہت جلد عمر کی پچاسیویں منزل پر قدم رکھنے والے ہیں۔ خدا اُن کو توفیق دے اور وہ اِسی طرح اُردو کے ادبی سرمایہ میں اضافہ کرتے رہیں۔’’

چمن آہوجہ
باعتبار : عنوان
  • عنوان
  • سال
  • مصنف

آرگس

  

1962

آرگس

  

1962

آرگس

  

  

برگد نامہ

چمن آہوجہ

2016

چمن زار

چمن آہوجہ

2015

اقرار گر نہیں ہے تو انکار بھی نہیں

چمن آہوجہ

2017

محفل افکار

چمن آہوجہ

2017

مرقع فکر

چمن آہوجہ

2018

تفکرات

چمن آہوجہ

2018

تسلیمات

چمن آہوجہ

2018