ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد

7498 کتاب

کتب خانہ: تعارف

ادارۂ ادبیات اردو کا قیام 1920ء میں ہوا تھا۔ یہ ادارہ حیدرآباد کے علاوہ سابقہ ریاست حیدرآباد کے دیگر اضلاع میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا کام کرتا تھا اور اس کی ریاست کے اضلاع میں بھی شاخیں تھی۔ یہ ایک طرح کی ادبی تحریک تھی جس کے روح رواں اور بانی مشہور محقق ڈاکٹر محی الدین قادری زور تھے، اردو زبان و ادب کی توسیع اور حفاظت، اردو کو مختلف علوم و فنون سے روشناس کرانا، سرزمین دکن میں اردو زبان و ادب کا صحیح ذوق پیدا کرنا، تاریخ دکن کی خدمت اور ملک کے تاریخی اور ادبی آثار کی حفاظت اور تصنیف و تالیف میں رہبری اور مدد جیسے عوامل اس ادارہ کے مقاصد میں شامل تھے، جو اب تک بحسن خوبی انجام پائے۔ ادارہ ادبیات اردو آج کے دور میں بھی اپنی مطبوعات اور رسائل کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ رسالہ "سب رس" اسی دارے کی دین ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ ادبیات اردو کے امتحانات اردو ماہر، اردو عالم، اردو فاضل حیدرآباد و سکندرآباد، اضلاع و بیرون ریاست تلنگانہ کے تمام مراکز پر ایک ساتھ منعقد کرتے آ رہا ہے۔ یہ امتحانات دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مختلف تعلیمی اداروں میں کئی مساوی قابلیتوں کے برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ اس دارے کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد کی اب بیشتر اردو کتابیں ریختہ ڈیجیٹل لائبریری کا حصہ ہیں، جن میں "آب حیات" از محمد حسین آزاد، "ابن بطوطہ کا سفر نامہ ہندوستان" از اقبال احمد، "ابن رشد" از محمد یونس انصاری، "ابتدائی اردو" کی تمام جلدیں از عبد الرحمن بارکر، "آئین قیصری" از محمد ذکاء اللہ، "ابوالکلام کے افسانے"، "آتش گل" از جگر مرادآبادی، "آثار الصنادید" از سرسید، "احسن التواریخ" از منشی رام سہائے تمنا، "اقبال کامل" از عبد السلام ندوی، "آخری تحفہ" از پریم چند، "اردو دب کی تاریخ" از نسیم قریشی، "اردو کی پہلی کتاب" تمام حصے از محمد حسین آزاد، "اردوئے معلی" از مرزا غالب، "اسباب بغاوت ہند" از سر سید، "افادات سلیم" از وحید الدین سلیم، جیسے اردو ادب کے شاہکار جبکہ رسائل میں "ادب لطیف، "ادبی دنیا، "اردو سائیکو لوجی، "ارم، "افادہ، حیدرآباد، "افکار، بھوپال، "البیان، امرتسر، وغیرہ جیسے  بیشتر شمارے یہاں  موجود ہیں، ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد کے ذخیرے سے آپ گھر بیٹھے استفادہ کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھئے
ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد
باعتبار : عنوان
  • عنوان
  • سال
  • مصنف

حکیم دکن

  

1944

حکیم دکن

  

1944

حکیم دکن

  

1950

حکیم دکن

  

1938

حکیم دکن

  

1938

حکیم دکن

  

1944

حکیم دکن

  

1942

حکیم دکن

  

1938

حکیم دکن

  

1938

حکیم دکن

  

1943

حکیم دکن

  

1938

حکیم دکن

  

1938

حکیم محمد موسیٰ امرتسری

سید محمد عبداللہ

1991

حالات بزرگان سلسلۂ عالیۂ نقشبندیہ

  

1932

حالات حضرت جان اللہ شاہ

  

  

حالات مہاراجہ سیواجی مرہٹہ

لالہ دیا رام عاکف

  

حالات بالائے کوہ امراباد

  

  

حالات بیدر

محمد عبدالوہاب عندلیب

  

حالات دلگداز

محمد عمر

1907

حالات ایران

  

1905

حالات خاندان محمد شمس الدین صدیقی

محمد شمس الدین صدیقی

  

حالات مبارک حضرت امام حسین

سیماب اکبرآبادی

  

حالات نجدوالحساء

  

1905

حالات نواب رسول یار جنگ مرحوم

  

  

حالات نواب شمس العلماءسیدامدادامام متخلص بہ اثر

سید محمد اطہر

  

حالات قسطنطنیہ

  

1898

حالات سعدی

منشی احمد حسین خاں

1895

حالات سرسید

  

1938

حالات سریشلم پروت

  

  

حالات تانتیا بھیل

  

  

حالی وکلدار کی جنتری

محمد عبد الغفار

  

حل النتائج

درگا پرساد

1886

حلوائے بے دود

منشی محمد حسین

1910

حلوہ دانش وسرمۂ بینش

حکیم بھگت رام

  

حلوہ دانش وسرمۂ بینش

حکیم بھگت رام

  

حلوۂ دانش و سرمہ بینش

حکیم بھگت رام

  

ہم کہاں کے دانا ہیں

محبوب بڑائی ہبلوی

1967

ہم کیسے پڑھائیں؟

سلامت اللہ

1942

ہم نفسان رفتہ

رشید احمد صدیقی

1974

ہم تم

غلام احمد وکیل

  

ہمہ دان طبیب

حکیم بھگت رام

  

ہمارا دوسرا پنج سالہ پلان

  

  

ہمارا ہندوستان

  

  

ہمارا کنبہ

  

  

ہمارا مقصد عام بین الاقوامی سلامتی

وادم زگلادن

1986

ہمارا پاکستان

  

1960

ہمارا پلان

  

1954

ہمارے ادب کے نئے دھارے

محمد عبد القادر

1948

ہمارے ادیب

  

  

ہمارے بچوں کو وراثت میں کس قسم کی دنیا ملے گی؟

ویا چیسلاوے کاتامژے

1989

Go to: