آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے

    یہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہے

    اس زمانے میں خموشی سے نکلتا نہیں کام

    نالہ پر شور ہو اور زوروں پہ فریاد رہے

    درد کا کچھ تو ہو احساس دل انساں میں

    سخت ناشاد ہے دائم جو یہاں شاد رہے

    اے ترے دام محبت کے دل و جاں صدقے

    شکر ہے قید علائق سے ہم آزاد رہے

    نالہ ایسا ہو کہ ہو اس پہ گمان نغمہ

    رہے اس طرح اگر شکوۂ بیداد رہے

    ہر طرف دام بچھائے ہیں ہوس نے کیا کیا

    کیا یہ ممکن ہے یہاں کوئی دل آزاد رہے

    جب یہ عالم ہو کہ منڈلاتی ہو ہر سمت کو برق

    کیوں کوئی نوحہ گر خرمن برباد رہے

    اب تصور میں کہاں شکل تمنا وحشتؔ

    جس کو مدت سے نہ دیکھا ہو وہ کیا یاد رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY