آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا

عبدالصمد تپشؔ

آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا

عبدالصمد تپشؔ

MORE BYعبدالصمد تپشؔ

    آنکھ تھی سوجی ہوئی اور رات بھر سویا نہ تھا

    اس طرح وہ ٹوٹ کر شاید کبھی رویا نہ تھا

    ان کے شوق دید میں تھا اس قدر کھویا ہوا

    میں بھری محفل میں تھا ایسا کہ میں گویا نہ تھا

    امتحاں ذوق سفر کا تھا تو سورج سر پہ تھا

    دھوپ تھی دیوار تھی لیکن کہیں سایہ نہ تھا

    وہ بڑا تھا پھر بھی وہ اس قدر بے فیض تھا

    اس گھنیرے پیڑ میں جیسے کوئی سایہ نہ تھا

    شاہراہ پر خون میں اک لاش تھی لتھڑی ہوئی

    آئے دن کا حادثہ تھا اس لئے چرچا نہ تھا

    ہر نگہ پیاسی تھی لیکن وقت کی تحویل میں

    اک سراب آسا زمیں تھی دور تک دریا نہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 117)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے