آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا

مصحفی غلام ہمدانی

آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا

    لازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرنا

    گر ہم مشیر ہوتے اللہ کے تو کہتے

    یعنی وصال کی شب یا رب دراز کرنا

    اس کا سلام مجھ سے اب کیا ہے گردش رو

    طفلی میں میں سکھایا جس کو نماز کرنا

    ازبسکہ خون دل کا کھاتا ہے جوش ہر دم

    مشکل ہوا ہے ہم کو اخفائے راز کرنا

    بایک نیاز اس سے کیونکر کوئی بر آوے

    آتا ہو سو طرح سے جس کو کہ ناز کرنا

    کرتے ہیں چوٹ آخر یہ آہوان بدمست

    آنکھوں سے اس کی اے دل ٹک احتراز کرنا

    اے آہ اس کے دل میں تاثیر ہو تو جانوں

    ہے ورنہ کام کتنا پتھر گداز کرنا

    ہووے گی صبح روشن اک دم میں وصل کی شب

    بند قبا کو اپنے ظالم نہ باز کرنا

    اے مصحفیؔ ہیں دو چیز اب یادگار دوراں

    اس سے تو ناز کرنا مجھ سے نیاز کرنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY