اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

عزیز نبیل

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

    خیال شعر میں ڈھلتے ہوئے جھجک رہے تھے

    کوئی جواب نہ سورج میں تھا نہ چاند کے پاس

    مرے سوال سر آسماں چمک رہے تھے

    نہ جانے کس کے قدم چومنے کی حسرت میں

    تمام راستے دل کی طرح دھڑک رہے تھے

    کسی سے ذہن جو ملتا تو گفتگو کرتے

    ہجوم شہر میں تنہا تھے ہم، بھٹک رہے تھے

    یہ اس نے دیکھا تھا اک رقص نا تمام کے بعد

    وفور شوق میں کون و مکاں تھرک رہے تھے

    کتاب عمر گزشتہ کے حاشیوں میں نبیلؔ

    وہ شور تھا کہ زمیں آسماں دھمک رہے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY