ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارے

ظفر اقبال

ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    ایسی کوئی درپیش ہوا آئی ہمارے

    جو ساتھ ہی پتے بھی اڑا لائی ہمارے

    وہ ابر کہ چھایا رہا آنکھوں کے افق پر

    وہ برق جو اندر کہیں لہرائی ہمارے

    دیکھا ہے بہت خواب ملاقات بھی ہر روز

    حصے میں جو اب آئی ہے تنہائی ہمارے

    اس بار ملی ہے جو نتیجے میں برائی

    کام آئی ہے اپنی کوئی اچھائی ہمارے

    تھے ہی نہیں موجود تو کیوں خلق نے اس کی

    چاروں طرف افواہ سی پھیلائی ہمارے

    پھر جھوٹ کی اس میں ہمیں کرنی ہے ملاوٹ

    پھر راس نہیں آئے گی سچائی ہمارے

    ڈرتے ہوئے کھولا تو ہے یہ باب تعارف

    پڑ جائے گلے ہی نہ شناسائی ہمارے

    دعویٰ تو بہت رمز شناسی کا اسے تھا

    یہ خلق اشارے نہ سمجھ پائی ہمارے

    چل بھی دیے دکھلا کے تماشا تو ظفرؔ ہم

    بیٹھے رہے تا دیر تماشائی ہمارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY