ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

سرفراز زاہد

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

سرفراز زاہد

MORE BYسرفراز زاہد

    ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

    دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم

    اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ

    کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم

    کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں

    اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم

    استعاروں کے تکلف میں پڑے ہیں جب سے

    اپنے ہونے کی وضاحت نہیں کر سکتے ہم

    شاخ سے توڑ لیا کرتے ہیں آگے بڑھ کر

    جن کی خوش بو پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

    بے خبر یوں ہر اک بات خبر لگتی ہے

    با خبر ایسے کہ حیرت نہیں کر سکتے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY