عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

عبید اللہ علیم

عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

    وہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میں

    وصال کا ہو کہ اس کے فراق کا موسم

    وہ لذتیں تھیں کہ اندر سے ٹوٹتا تھا میں

    چڑھا ہوا تھا وہ نشہ کہ کم نہ ہوتا تھا

    ہزار بار ابھرتا تھا ڈوبتا تھا میں

    بدن کا کھیل تھیں اس کی محبتیں لیکن

    جو بھید جسم کے تھے جاں سے کھولتا تھا میں

    پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا

    کہ روح نیند میں تھی اور جاگتا تھا میں

    کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا

    کسی کا عشق کسی سے نباہتا تھا میں

    میں اہل زر کے مقابل میں تھا فقط شاعر

    مگر میں جیت گیا لفظ ہارتا تھا میں

    مآخذ
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 25)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY