اندھیرا سا کیا تھا ابلتا ہوا

احمد محفوظ

اندھیرا سا کیا تھا ابلتا ہوا

احمد محفوظ

MORE BYاحمد محفوظ

    اندھیرا سا کیا تھا ابلتا ہوا

    کہ پھر دن ڈھلے ہی تماشا ہوا

    یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں

    یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا

    نہ دیکھو تم اس ناز سے آئینہ

    کہ رہ جائے وہ منہ ہی تکتا ہوا

    نہ جانے پس کارواں کون تھا

    گیا دور تک میں بھی روتا ہوا

    کبھی اور کشتی نکالیں گے ہم

    ابھی اپنا دریا ہے ٹھہرا ہوا

    جہاں جاؤ سر پر یہی آسماں

    یہ ظالم کہاں تک ہے پھیلا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY