اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے

جمال احسانی

اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے

جمال احسانی

MORE BYجمال احسانی

    اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے

    طاق دل پر جو دیا رکھا ہے

    جنبش لب نہ سہی تیرے خلاف

    ہاتھ کو ہم نے اٹھا رکھا ہے

    تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا نہیں

    چھوڑ اس بات میں کیا رکھا ہے

    وہ ملا دے گا ہمیں بھی جس نے

    آب اور گل کو ملا رکھا ہے

    مجھ کو معلوم ہے میری خاطر

    کہیں اک جال بنا رکھا ہے

    جانتا ہوں مرے قصہ گو نے

    اصل قصے کو چھپا رکھا ہے

    آسمانوں نے گواہی کے لیے

    اک ستارے کو بچا رکھا ہے

    کام کچھ اتنے ہیں کرنے کو جمالؔ

    نام کو کل پہ اٹھا رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY