اور ہوتی میری رسوائی نکھرتا اور کچھ

کاوش بدری

اور ہوتی میری رسوائی نکھرتا اور کچھ

کاوش بدری

MORE BYکاوش بدری

    اور ہوتی میری رسوائی نکھرتا اور کچھ

    غور کرتا اور کچھ اظہار کرتا اور کچھ

    یار لوگوں میں سبق بنتی مری آوارگی

    سانحہ اس شہر میں مجھ پر گزرتا اور کچھ

    ان دنوں دیدہ بھی لگتا ہے شنیدہ کی طرح

    کاش حرف و صوت کے من میں اترتا اور کچھ

    آخری ہچکی سے دم ٹوٹا نہ نبض اپنی رکی

    تو اگر ہوتا مرے آگے تو مرتا اور کچھ

    سانس لینے بھی نہ پایا تھا کہ منظر گم ہوا

    میں کسی قابل نہ تھا ورنہ ٹھہرتا اور کچھ

    نثری نظمیں کہنے والے تو فرشتے ہیں تمام

    مجھ گنہ گار غزل پر قہر اترتا اور کچھ

    بے تکلف اس قدر تھا قتل میرا کر دیا

    وہ عدو ہوتا تو کاوشؔ مجھ سے ڈرتا اور کچھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY