بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں

منظور ہاشمی

بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    بدن کو زخم کریں خاک کو لبادہ کریں

    جنوں کی بھولی ہوئی رسم کا اعادہ کریں

    تمام اگلے زمانوں کو یہ اجازت ہے

    ہمارے عہد گزشتہ سے استفادہ کریں

    انہیں اگر مری وحشت کو آزمانا ہے

    زمیں کو سخت کریں دشت کو کشادہ کریں

    چلو لہو بھی چراغوں کی نذر کر دیں گے

    یہ شرط ہے کہ وہ پھر روشنی زیادہ کریں

    سنا ہے سچی ہو نیت تو راہ کھلتی ہے

    چلو سفر نہ کریں کم سے کم ارادہ کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY