بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

جون ایلیا

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

    زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا

    تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

    تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

    ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ

    مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا

    جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے

    کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا

    بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

    گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

    یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں

    سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا

    اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک

    بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا

    تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں

    بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا

    بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

    بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

    مأخذ :
    • کتاب : yani (Pg. 31)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY