بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

اختر رضا سلیمی

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

اختر رضا سلیمی

MORE BYاختر رضا سلیمی

    بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

    وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے

    سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی

    کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے

    وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار

    کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے

    ہر ایک سمت نظر آ رہے ہیں ڈھیر پہ ڈھیر

    ہر ایک سمت مکاں پر مکان ہوتے تھے

    ٹھہر سکے نہ رضاؔ موج تند کے آگے

    وہ جن کے آب رواں پر مکان ہوتے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY