چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

مجید امجد

چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

مجید امجد

MORE BYمجید امجد

    چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے

    پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

    شاید اک بھولی تمنا مٹتے مٹتے جی اٹھے

    اور بھی اس جلوہ زار رنگ و بو میں گھومیے

    روح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ

    ہمہماتی محفلوں کی ہاؤ ہو میں گھومیے

    کیا خبر کس موڑ پر مہجور یادیں آ ملیں

    گھومتی راہوں پہ گرد آرزو میں گھومیے

    زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ملتی نہیں

    زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے

    کنج دوراں کو نئے اک زاویے سے دیکھیے

    جن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں گھومیے

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 303)
    • Author : Majiid Amjad
    • مطبع : Farid Book Depot (p) Ltd. (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY