چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

MORE BY ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

    چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے

    وہ دست غیب جو تبدیل کر رہا ہے مجھے

    یہ میرے مٹتے ہوئے لفظ جو دمک اٹھے ہیں

    ضرور وہ کہیں ترتیل کر رہا ہے مجھے

    میں جاگتے میں کہیں بن رہا ہوں از سر نو

    وہ اپنے خواب میں تشکیل کر رہا ہے مجھے

    حریم ناز اور اک عمر بعد میں لیکن

    یہ اختصار جو تفصیل کر رہا ہے مجھے

    بدن پہ تازہ نشاں بن رہے ہیں جیسے کوئی

    مرے غیاب میں تحویل کر رہا ہے مجھے

    بدل رہے ہیں مرے خد و خال ترکؔ ابھی

    مسلسل آئینہ تاویل کر رہا ہے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY