چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں

    آرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    چاہتا تھا بہت سی باتوں کو

    مگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

    جرأت عرض حال کیا ہوتی

    نظر لطف اس نے کی ہی نہیں

    اس مصیبت میں دل سے کیا کہتا

    کوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

    آپ کیا جانیں قدر یا اللہ

    جب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

    شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیا

    میری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

    پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیسا

    ہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY