دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

عبدالمتین نیاز

دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

عبدالمتین نیاز

MORE BYعبدالمتین نیاز

    دامن کی فکر ہے نہ گریباں کی فکر ہے

    اہل وطن کو فتنۂ دوراں کی فکر ہے

    گلشن کی فکر ہے نہ بیاباں کی فکر ہے

    اہل جنوں کو فصل بہاراں کی فکر ہے

    لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم

    بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے

    ہم مقتل حیات میں ہیں سر بکف مگر

    اہل ہوس کو اپنے دل و جاں کی فکر ہے

    ساحل سے دور رہ کے ہے منزل کی جستجو

    موجوں کی فکر ہم کو نہ طوفاں کی فکر ہے

    ہم کو نہیں ہے فکر کسی بات کی نیازؔ

    تاریکیوں میں شمع فروزاں کی فکر ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY