ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

پروین شاکر

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

    میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

    بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی

    اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

    پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب

    ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

    تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے

    ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

    میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی

    سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

    خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت

    اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

    تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے

    پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY