دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

فارغ بخاری

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

    جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے

    جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ

    سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

    ایسی گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ

    کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے

    ان سر پھری ہواؤں سے کچھ آشنا تو ہوں

    گہرے سمندروں میں نہ کشتی کو ڈالیے

    اظہار کیجیے کہ ذرا کرب کم تو ہو

    اے دوستو دکھوں کو دلوں میں نہ پالیے

    خود ہی اٹھائیں اپنے جنوں کی جراحتیں

    یہ روگ دوسروں کے نہ کھاتے میں ڈالیے

    پہلے یہ کوہسار تو تسخیر کیجیے

    فارغؔ ابھی فلک پہ کمندیں نہ ڈالیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY