دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخم جگر میں تانبا ہے

علی اکبر ناطق

دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخم جگر میں تانبا ہے

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخم جگر میں تانبا ہے

    اتنا بھاری سینہ لے کر شخص آوارہ پھرتا ہے

    کانچ کے ریزے تیز ہوا میں باؤلے اڑتے پھرتے ہیں

    ننگے بدن کی چاندنی سے پھر تارا تارا گرتا ہے

    آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے

    کیسے کھلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے

    کالے دیوتا مٹھی بھر بھر سونے گھروں میں پھینکتے ہیں

    کہر زدہ بستی کے چوک میں راکھ کا اونچا ٹیلہ ہے

    سرد شبوں کا پوچھنے والو ان راتوں کے تارے دور

    دھندلے چاند کی نبضیں گونگی آگ کا چہرہ نیلا ہے

    پیپلوں والی گلیاں اجڑی ڈھیر ہیں پیلے پتوں کے

    سامنے والی سرخ حویلی میں بھوتوں کا ڈیرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے