دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے

ظفر اقبال ظفر

دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے

ظفر اقبال ظفر

MORE BY ظفر اقبال ظفر

    دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے

    شکست خواب کا اعلان کر دیا میں نے

    جو تیر آئے تھے اس کی طرف سے سینے پر

    سجا کے زخموں کا گلدان کر دیا میں نے

    غموں کا تاج مرے سر پہ جب سے رکھا ہے

    خود اپنے آپ کو سلطان کر دیا میں نے

    نہ کوئی پھول ہی رکھا نہ آرزو نہ چراغ

    تمام گھر کو بیابان کر دیا میں نے

    وہ چاہتا تھا کہ سب کچھ لٹا کے زندہ رہوں

    لو آج پورا یہ ارمان کر دیا میں نے

    میں زد پہ تیروں کے خود آ گیا ہوں آج ظفرؔ

    ترے نشانے کو آسان کر دیا میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY