دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

عبید اللہ علیم

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

    جو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ مت

    خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں

    اب اس طرح تو مری روح میں سماؤ مت

    زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں

    خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت

    تمہارا سر نہیں طفلان رہ گزر کے لیے

    دیار سنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ مت

    سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے

    ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ مت

    ہمارے عہد میں یہ رسم عاشقی ٹھہری

    فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ مت

    وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے

    سخن کو پردۂ الفاظ میں چھپاؤ مت

    سپرد کر ہی دیا آتش ہنر کے تو پھر

    تمام خاک ہی ہو جاؤ کچھ بچاؤ مت

    RECITATIONS

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت عبید اللہ علیم

    مآخذ
    • کتاب : Chand Chehra Sitara Aankhen (Pg. 93)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY