ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

ظفر اقبال ظفر

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

ظفر اقبال ظفر

MORE BY ظفر اقبال ظفر

    ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

    حوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہے

    بپھری موجوں سے الجھنے کا سلیقہ ہے اگر

    یہ سمندر کبھی پایاب بھی ہو سکتا ہے

    عمر تپتے ہوئے صحرا میں بسر کی جس نے

    تو سرابوں سے وہ سیراب بھی ہو سکتا ہے

    آپ دریا کی روانی سے نہ الجھیں ہرگز

    تہہ میں اس کے کوئی گرداب بھی ہو سکتا ہے

    لاکھ موتی ہی سہی وقت کی گردش میں کبھی

    قیمتی کتنا ہو بے آب بھی ہو سکتا ہے

    جس کو مجبور ہوا ہے تو کھرچنے پہ ظفرؔ

    تیری آنکھوں کا حسیں خواب بھی ہو سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY