ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

عبد الحمید

ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

عبد الحمید

MORE BYعبد الحمید

    ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

    دیکھو ہم بھی کیا کیا کر کے بیٹھ گئے ہیں

    پوچھ رہے ہیں لوگ ارے وہ شخص کہاں ہے

    جانے کون تماشا کر کے بیٹھ گئے ہیں

    اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے

    سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں

    سارے شجر شادابی سمیٹے اپنی اپنی

    دھوپ میں گہرا سایہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

    لوٹ گئے سب سوچ کے گھر میں کوئی نہیں ہے

    اور یہ ہم کہ اندھیرا کر کے بیٹھ گئے ہیں

    RECITATIONS

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں عبد الحمید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY